مِرے وجود کا ہی جزوِ گمشدہ نکلا
وہ اجنبی تھا مگر جب ملا مِرا نکلا
میں کیا سمجھتا رہا خود کو اور کیا نکلا
خیال تھا، ہوں خِرد مند، سر پھِرا نکلا
لگائے جس پہ گئے تھے ہزارہا الزام
فساد کیسے بھڑک اٹھے، جب ہوئی تحقیق
تو سازشوں کا خطرناک سلسلہ نکلا
جسے پکڑ کے بلندی کو چھونا چاہا تھا
وہ دیکھنے میں تو رسا تھا، اژدہا نکلا
جسے حقیر سمجھتا رہا میں مدت تک
نہ جانے کتنے بڑے لوگوں سے بڑا نکلا
کہ معجزے کو بھی درکار ہے عمل جاوید
عصا اٹھا تو سمندر میں راستہ نکلا
جاوید جمیل
No comments:
Post a Comment