تسکین کیسے ہو گی بے تاب الفتوں کی
تدبیر کیسے ہو گی مطلوب قربتوں کی
بغض و حسد نہ جانے کیا کیا ستم کریں گے
تشہیر کیوں کریں ہم ان کی عنایتوں کی
محبوب، کیا سبب ہے، یہ ظلم کس لیے ہے
بارش محبتوں کی جاری رہے مسلسل
گر جائے گی یقیناً دیوار نفرتوں کی
تیری نظر نے بوسہ جب سے مِرا لیا ہے
آندھی سی آ گئی ہے سینے میں حسرتوں کی
اِترانا، فخر کرنا، اوروں کو کم سمجھنا
یہ سب علامتیں ہیں انساں میں غربتوں کی
اچھی ہو ہر روایت، بے شک نہیں ضروری
تعظیم لازمی ہے اچھی روایتوں کی
عرفان کیا ہے اس کا عارف کو علم ہو گا
پہچان کب مجھے ہے مجذوب صورتوں کی
ہیں منتظر نگاہیں جاویدؔ مدتوں سے
ہو جائے کاش جلوت دو چار ساعتوں کی
جاوید جمیل
No comments:
Post a Comment