Showing posts with label خان جانباز. Show all posts
Showing posts with label خان جانباز. Show all posts

Wednesday, 13 April 2022

سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی

 سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی

سرخی ہونٹوں کی وہی یار گلابوں والی

وہ نشہ ایسا جو مدہوش کرے ہے پل میں

وہ جو لڑکی ہے تو لڑکی بھی شرابوں والی

اب بھلا کیسے کوئی دید کی صورت نکلے

اب تو آتی ہی نہیں نیند بھی خوابوں والی

Sunday, 19 September 2021

خریدے گا اگر کوئی تو فن کو بیچ دوں گا میں

 خریدے گا اگر کوئی تو فن کو بیچ دوں گا میں

کئی ہفتوں سے بھوکا ہوں سخن کو بیچ دوں گا میں

مِرے بچے اگر اک روز بھی بھوکے رہے مولا

اسی دن قبر سے اٹھ کر کفن کو بیچ دوں گا میں

گزاری عمر ساری ایک جوڑے میں فقط میں نے

خریدوں گا کفن تو پیرہن کو بیچ دوں گا میں

Sunday, 5 September 2021

صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے

 صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے 

گر دل نہیں میرا تو تِرے بال میں کیا ہے 

ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن 

اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے

مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت

یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے

Wednesday, 1 September 2021

عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

 عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا 

دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا 

غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں 

اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا

فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی

دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا

Tuesday, 31 August 2021

مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے

 مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے

کسی کا لوہا، کسی کا تانبا لگا ہوا ہے 

نہیں ہے اپنا کوئی بھی دنیا جہاں میں لیکن 

کسی کو کھونے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے 

کبھی تھی ٹھنڈی زمین سائے سے جن کے لوگو 

ہمارا ایسے شجر سے شجرہ لگا ہوا ہے 

Wednesday, 28 July 2021

عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

 عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا

دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا

غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں

اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا

فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی

دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا

Tuesday, 27 July 2021

میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہو گا

 میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہو گا

حسین شخص ہے ممکن ہے بے وفا ہو گا

تمہیں خیال بھی آیا سفر پہ جاتے ہوئے

تمہارے بعد ہمارا یہاں پہ کیا ہو گا؟

میں جھوٹ بول کے آیا تھا واپسی کا جسے

وہ شخص اب بھی مِری راہ دیکھتا ہو گا