سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی
سرخی ہونٹوں کی وہی یار گلابوں والی
وہ نشہ ایسا جو مدہوش کرے ہے پل میں
وہ جو لڑکی ہے تو لڑکی بھی شرابوں والی
اب بھلا کیسے کوئی دید کی صورت نکلے
اب تو آتی ہی نہیں نیند بھی خوابوں والی
سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی
سرخی ہونٹوں کی وہی یار گلابوں والی
وہ نشہ ایسا جو مدہوش کرے ہے پل میں
وہ جو لڑکی ہے تو لڑکی بھی شرابوں والی
اب بھلا کیسے کوئی دید کی صورت نکلے
اب تو آتی ہی نہیں نیند بھی خوابوں والی
خریدے گا اگر کوئی تو فن کو بیچ دوں گا میں
کئی ہفتوں سے بھوکا ہوں سخن کو بیچ دوں گا میں
مِرے بچے اگر اک روز بھی بھوکے رہے مولا
اسی دن قبر سے اٹھ کر کفن کو بیچ دوں گا میں
گزاری عمر ساری ایک جوڑے میں فقط میں نے
خریدوں گا کفن تو پیرہن کو بیچ دوں گا میں
صیاد بتا تو سہی اس جال میں کیا ہے
گر دل نہیں میرا تو تِرے بال میں کیا ہے
ویسے تو خود اس چاند کا قائل ہوں میں لیکن
اک روشنی کو چھوڑ کر اس تھال میں کیا ہے
مجنوں ہی بتا سکتا ہے لیلیٰ کی فضیلت
یا سوہنی سے پوچھ کہ مہیوال میں کیا ہے
عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا
دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا
غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں
اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا
فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی
دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا
مجھے بنانے میں سب کا خرچہ لگا ہوا ہے
کسی کا لوہا، کسی کا تانبا لگا ہوا ہے
نہیں ہے اپنا کوئی بھی دنیا جہاں میں لیکن
کسی کو کھونے کا مجھ کو خدشہ لگا ہوا ہے
کبھی تھی ٹھنڈی زمین سائے سے جن کے لوگو
ہمارا ایسے شجر سے شجرہ لگا ہوا ہے
عاشق جو اس گلی کا بھی مر کر چلا گیا
دنیا سے ایک اور قلندر چلا گیا
غربت کا اپنے حال تجھے اور کیا کہوں
اک دن تو اک فقیر بھی اٹھ کر چلا گیا
فرعون اپنے دور کا زندہ ہے آج بھی
دنیا سمجھ رہی تھی ستم گر چلا گیا
میں شکل دیکھ کے کیسے کہوں کہ کیا ہو گا
حسین شخص ہے ممکن ہے بے وفا ہو گا
تمہیں خیال بھی آیا سفر پہ جاتے ہوئے
تمہارے بعد ہمارا یہاں پہ کیا ہو گا؟
میں جھوٹ بول کے آیا تھا واپسی کا جسے
وہ شخص اب بھی مِری راہ دیکھتا ہو گا