Wednesday, 13 April 2022

سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی

 سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی

سرخی ہونٹوں کی وہی یار گلابوں والی

وہ نشہ ایسا جو مدہوش کرے ہے پل میں

وہ جو لڑکی ہے تو لڑکی بھی شرابوں والی

اب بھلا کیسے کوئی دید کی صورت نکلے

اب تو آتی ہی نہیں نیند بھی خوابوں والی

ایک خادم کہ جسے شاہ کی بیٹی ہے پسند

ایک مفلس کہ جسے چاہ نوابوں والی

عشق سے خود کو بچانے کے لیے پہنی تھی

اس کے گردن میں جو تعویذ تھی بابوں والی

مجھ کو ہر چیز نظر آتی ہے تحریر شدہ

یار کی بات بھی لگتی ہے کتابوں والی

عاشقی، شاعری، آوارگی، دیکھو جاں باز

لگ گئیں عادتیں تم کو بھی خرابوں والی


خان جانباز

No comments:

Post a Comment