سامنے بیٹھی ہے جو کالے نقابوں والی
سرخی ہونٹوں کی وہی یار گلابوں والی
وہ نشہ ایسا جو مدہوش کرے ہے پل میں
وہ جو لڑکی ہے تو لڑکی بھی شرابوں والی
اب بھلا کیسے کوئی دید کی صورت نکلے
اب تو آتی ہی نہیں نیند بھی خوابوں والی
ایک خادم کہ جسے شاہ کی بیٹی ہے پسند
ایک مفلس کہ جسے چاہ نوابوں والی
عشق سے خود کو بچانے کے لیے پہنی تھی
اس کے گردن میں جو تعویذ تھی بابوں والی
مجھ کو ہر چیز نظر آتی ہے تحریر شدہ
یار کی بات بھی لگتی ہے کتابوں والی
عاشقی، شاعری، آوارگی، دیکھو جاں باز
لگ گئیں عادتیں تم کو بھی خرابوں والی
خان جانباز
No comments:
Post a Comment