مہالکشمی کا پل
مہالکشمی پل پر سوکھنے والی
ساری ساڑھیوں کے اندر
روز ایک ہی عورت ہوتی ہے
جو دن میں تھوڑا کھاتی ہے
اور رات کو کم کم سوتی ہے
یہ ساڑھیاں دُھل کے جنگلے پر
آنچل کے اشک سُکھاتی ہیں
کس مشکل سے تن ڈھکتی ہیں
اور من عُریاں کر جاتی ہیں
یہ ساڑھیاں جو اب بُھوری ہیں
کبھی نارنجی، انگوری تھیں
کچھ سرخ تھیں، کچھ سِندوری تھیں
ہر سُندر تن پر پوری تھیں
کوئی کمسن گوری بیوہ کی
کوئی بالکل لاغر بڑھیا کی
کوئی شانتا، لڑیا، جیونا کی
ساوِتری اور منجولا کی
کوئی برتن مانجھنے والی کی
کوئی روئی کاٹنے والی کی
کوئی شب بھر ہانپنے والی کی
کوئی راہ تاکنے والی کی
وہ راہ کہ جس پر خود چل کر
اک روز وزیر اعظم کی
پُر زور سواری آئے گی
کوئی سچا بھاشن لائے گی
جب تیز ہوائیں چلتی ہیں
آمد کے سندیسے لاتی ہیں
یہ ساڑھیاں پینگ بڑھاتی ہیں
اک آس میں سب لہراتی ہیں
ہر سال سواری کے پیچھے
سب جن گن من گن گاتی ہیں
پوری روٹی کی خواہش میں
اک پرچم سی بن جاتی ہیں
لیکن یہ سواری آتے ہی
چُپکے سے گزر جاتی ہے سدا
اک آن اِدھر سے آتی ہے
اک آن اُدھر جاتی ہے سدا
ہر سال کے جُھوٹے وعدوں سے
بے لاگ مُکر جاتی ہے سدا
اُمید کی مدھم کِرنوں کی
نظروں سے اُتر جاتی ہے سدا
اسنیٰ بدر
No comments:
Post a Comment