تھرتھراتے ہیں دمِ گُفتار ہونٹ
ہیں تِرے انکار کا انکار ہونٹ
اپنی قاتل کاوِشوں پر نیم وا
سُرخیوں میں غرق وہ خمدار ہونٹ
ہم کو اُلجھا جائیں رنگیں دائرے
پھونکتے ہیں جانے کیا پرکار ہونٹ
ہائے، شرما کر جو وہ شرمائے ہیں
کتنے تیکھے خنجروں کی دھار، ہونٹ
کیسا موسم تھا، نہ میں تھا اور نہ تم
ایک پل تھا اور تھے دو چار ہونٹ
تھی سماعت بھی بصارت اس کے پیش
جانے کیا کرتے تھے استفسار ہونٹ
اک جہاں ہے ابروؤں کی ڈھال میں
چشم، پیشانی، ذقن، رُخسار، ہونٹ
بول برہم ان کے ہونٹوں کی قسم
کیوں مُکر جاتے ہیں وہ مکار ہونٹ
بہزاد برہم
No comments:
Post a Comment