ساکت ہے بدن خواب کی لذت سے گزر کر
حیرت میں ہے دل کوچۂ حیرت سے گزر کر
اک نخلِ شناسائی میں رکنا پڑا تا دیر
پایا اسے پھر دشتِ وضاحت سے گزر کر
تھا کارِ ضرورت بھی گراں کارِ جنوں پر
معلوم ہوا رنجِ معیشت سے گزر کر
میں دیر سے پہنچا تھا سو بالوں میں لگا پھول
مُرجھا ہی گیا لمس کی حسرت سے گزر کر
اس شوخ سے نادم ہے مِری طاقتِ گفتار
ہر لفظ ادا ہوتا ہے لُکنت سے گزر کر
کامران نفیس
No comments:
Post a Comment