Wednesday, 13 April 2022

ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے

 ہمیں بھی کام بہت ہے خزانے سے اس کے

ذرا یہ لوگ تو اٹھیں سرہانے سے اس کے

یہی نہ ہو کہ توجہ ہٹا لے وہ اپنی

زیادہ دیر نہ بچنا نشانے سے اس کے

وہ مجھ سے تازہ محبت پہ راضی ہے لیکن

اصول اب بھی وہی ہیں پرانے سے اس کے

وہ تیر اتنی رعایت کبھی نہیں دیتا

یہ زخم لگتا نہیں ہے گھرانے سے اس کے

وہ چڑھ رہا تھا جدائی کی سیڑھیاں آفاق

سرک رہا تھا مِرا ہاتھ شانے سے اس کے


خرم آفاق

No comments:

Post a Comment