تیرا انکار جو اقرار نہیں ہو سکتا
دل تِرا حاشیہ بردار نہیں ہو سکتا
کیا ہواؤں کے قبیلے سے تعلق ہے تِرا
تُو چراغوں کا طرفدار نہیں ہو سکتا
تُو نے جو رقص رچایا ہے بدن کے اندر
یہ تماشا سرِ بازار نہیں ہو سکتا؟
اے مِری نیند پہ بہتان لگانے والے
میں تِرے خواب میں بیدار نہیں ہو سکتا
اشک کا پھول مِری آنکھ پہ کھلنا ہے سعید
شاخ پہ رنج نمودار نہیں ہو سکتا
مبشر سعید
No comments:
Post a Comment