وہ کون سی شے ہے جو تقسیم نہ ہو پائے
اب کون سے جذبے میں ترمیم نہ ہو پائے
مجرم بھی وہی ہیں جو منصف ہیں بنے بیٹھے
ان جیسے خداؤں کی تعظیم نہ ہو پائے
سوچوں میں تراشے ہیں لفظوں کے کئی پیکر
کیوں جانے مگر ان کی تجسیم نہ ہو پائے
مبہم سے ہوئے آخر رشتوں کے معانی بھی
آسان سی باتوں کی تفہیم نہ ہو پائے
بے سود نظریے ہیں، بے سود نتیجے ہیں
اغیار کے مکتب میں تعلیم نہ ہو پائے
نزہت عباسی
No comments:
Post a Comment