Wednesday, 13 April 2022

وہ کون سی شے ہے جو تقسیم نہ ہو پائے

 وہ کون سی شے ہے جو تقسیم نہ ہو پائے

اب کون سے جذبے میں ترمیم نہ ہو پائے

مجرم بھی وہی ہیں جو منصف ہیں بنے بیٹھے

ان جیسے خداؤں کی تعظیم نہ ہو پائے

سوچوں میں تراشے ہیں لفظوں کے کئی پیکر

کیوں جانے مگر ان کی تجسیم نہ ہو پائے

مبہم سے ہوئے آخر رشتوں کے معانی بھی

آسان سی باتوں کی تفہیم نہ ہو پائے

بے سود نظریے ہیں، بے سود نتیجے ہیں

اغیار کے مکتب میں تعلیم نہ ہو پائے


نزہت عباسی

No comments:

Post a Comment