Wednesday, 13 April 2022

پہلے بٹھا دئیے گئے پہرے زبان پر

 پہلے بِٹھا دئیے گئے پہرے زبان پر

پِھر دی گئی سزا مجھے میرے بیان پر

کچھ اور بات ہو یہ کوئی حادثہ نہ ہو

لوگوں کا اِک ہجوم ہے میرے مکان پر

پِھرتا ہوں سر پہ ہاتھ رکھے تیز دھوپ میں

کرتا ہوں اِکتفا میں اِسی سائبان پر

بچوں سے کچھ چھپی تو نہیں میری حیثیت

لے کر نہ جائیں گے کِسی اونچی دوکان پر

پرویز! بن رہے ہیں جو نقش و نِگار سے

حال اپنا لِکھ کے جاتی ہیں لہریں چٹان پر


پرویز اختر

No comments:

Post a Comment