Wednesday, 13 April 2022

مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں

 مل بھی جاتے ہیں تو کترا کے نکل جاتے ہیں

ہائے موسم کی طرح دوست بدل جاتے ہیں

ہم ابھی تک ہیں گرفتار محبت یارو

ٹھوکریں کھا کے سنا تھا کہ سنبھل جاتے ہیں

وہ کبھی اپنی جفا پر نہ ہوا شرمندہ

ہم سمجھتے رہے پتھر بھی پگھل جاتے ہیں

عمر بھر جن کی وفاؤں پہ بھروسہ کیجے

وقت پڑنے پہ وہی لوگ بدل جاتے ہیں

اس تغافل پہ یہ عالم کہ ہر اک محفل سے

وہ بھی گاتے ہوئے والی کی غزل جاتے ہیں


والی آسی

No comments:

Post a Comment