Wednesday, 13 April 2022

صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

 صحرا سے آنے والی ہواؤں میں ریت ہے

ہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں میں ریت ہے

اے قیس! تیرے دشت کو اتنی دعائیں دیں

کچھ بھی نہیں ہے میری دعاؤں میں ریت ہے

صحرا سے ہو کے باغ میں آیا ہوں سیر کو

ہاتھوں میں پھول ہیں مِرے پاؤں میں ریت ہے

مدت سے میری آنکھ میں اک خواب ہے مقیم

پانی میں پیڑ پیڑ کی چھاؤں میں ریت ہے

مجھ سا کوئی فقیر نہیں ہے کہ جس کے پاس

کشکول ریت کا ہے صداؤں میں ریت ہے


تہذیب حافی

No comments:

Post a Comment