Showing posts with label طارق عثمانی. Show all posts
Showing posts with label طارق عثمانی. Show all posts

Friday, 4 November 2022

جدید ہو گیا جب سے لباس لفظوں کا

 جدید ہو گیا جب سے لباس لفظوں کا

غزل پہ چھایا ہے خوف و ہراس لفظوں کا

کبھی اداس کبھی بدحواس لفظوں کا

ہمیں تو کھیل ہی آتا ہے راس لفظوں کا

پھر انتقاماً اسے عام کر دیا ہم نے

جو انتخاب ہمارا تھا خاص لفظوں کا

Thursday, 24 February 2022

تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے

 تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے 

یہ کوئی ان کہی شکایت ہے 

ہجر کے دُکھ پہ یار حیرت کیا 

مستقل وصل بھی اذیت ہے 

تجھ کو اب بُھولنے لگا ہوں میں 

یہ شکایت نہیں ہے، تہمت ہے 

Sunday, 26 December 2021

میری آوارہ مزاجی کو مکمل کر دے

 میری آوارہ مزاجی کو مکمل کر دے

اے خدا! دشتِ تمنا مِرا مقتل کر دے 

ٹُوٹتے بنتے عناصر میں ہو تحریک کمال 

یا مجھے خاک بنا یا مجھے جل تھل کر دے 

نہ سہی لالہ و گل،۔ نالۂ بلبل نہ سہی

مجھ کو گلشن نہیں کرتا ہے تو جنگل کر دے

Saturday, 25 December 2021

رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام

 رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام 

تِرے بغیر گزاری جو تیرے نام کی شام 

ٹھہر گئی ہے یوں مجھ میں تِرے خرام کی شام 

کہ جیسے گردِ سفر محو ہو قیام کی شام 

ستارہ زاد نے جس شب جبیں کو چوما تھا

طویل گزری تھی اس شب کے انتظام کی شام

Friday, 10 December 2021

خزاں سے ادھڑے ہوئے پھولوں کے لباس نہ ٹانک

 خزاں سے ادھڑے ہوئے پھولوں کے لباس نہ ٹانک

اب اس کی یاد سے مولا میرے حواس نہ ٹانک

میں رو پڑوں گا میرے غم کا امتحاں مت لے

فصیلِ ضبط پہ تصویرِ غم شناس نہ ٹانک

لباس عشق پہ پیوند مت لگا میرے دوست

جو ہو سکے تو تصوّر پہ کوئی آس نہ ٹانک

Thursday, 2 December 2021

جستجو منزل ادراک سے وابستہ ہے

 جستجو منزلِ ادراک سے وابستہ ہے

خاکِ درویش ابھی چاک سے وابستہ ہے

میری فطرت نہیں میں غیر کے رستے پہ چلوں

میری نسبت بھی میری ناک سے وابستہ ہے

وہ جو آئی تھی میرے سائیں کے قدموں کے تلے

میری ہستی تو اسی خاک سے وابستہ ہے