جدید ہو گیا جب سے لباس لفظوں کا
غزل پہ چھایا ہے خوف و ہراس لفظوں کا
کبھی اداس کبھی بدحواس لفظوں کا
ہمیں تو کھیل ہی آتا ہے راس لفظوں کا
پھر انتقاماً اسے عام کر دیا ہم نے
جو انتخاب ہمارا تھا خاص لفظوں کا
جدید ہو گیا جب سے لباس لفظوں کا
غزل پہ چھایا ہے خوف و ہراس لفظوں کا
کبھی اداس کبھی بدحواس لفظوں کا
ہمیں تو کھیل ہی آتا ہے راس لفظوں کا
پھر انتقاماً اسے عام کر دیا ہم نے
جو انتخاب ہمارا تھا خاص لفظوں کا
تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے
یہ کوئی ان کہی شکایت ہے
ہجر کے دُکھ پہ یار حیرت کیا
مستقل وصل بھی اذیت ہے
تجھ کو اب بُھولنے لگا ہوں میں
یہ شکایت نہیں ہے، تہمت ہے
میری آوارہ مزاجی کو مکمل کر دے
اے خدا! دشتِ تمنا مِرا مقتل کر دے
ٹُوٹتے بنتے عناصر میں ہو تحریک کمال
یا مجھے خاک بنا یا مجھے جل تھل کر دے
نہ سہی لالہ و گل،۔ نالۂ بلبل نہ سہی
مجھ کو گلشن نہیں کرتا ہے تو جنگل کر دے
رواں ہے مجھ میں ابھی تک وہ انتقام کی شام
تِرے بغیر گزاری جو تیرے نام کی شام
ٹھہر گئی ہے یوں مجھ میں تِرے خرام کی شام
کہ جیسے گردِ سفر محو ہو قیام کی شام
ستارہ زاد نے جس شب جبیں کو چوما تھا
طویل گزری تھی اس شب کے انتظام کی شام
خزاں سے ادھڑے ہوئے پھولوں کے لباس نہ ٹانک
اب اس کی یاد سے مولا میرے حواس نہ ٹانک
میں رو پڑوں گا میرے غم کا امتحاں مت لے
فصیلِ ضبط پہ تصویرِ غم شناس نہ ٹانک
لباس عشق پہ پیوند مت لگا میرے دوست
جو ہو سکے تو تصوّر پہ کوئی آس نہ ٹانک
جستجو منزلِ ادراک سے وابستہ ہے
خاکِ درویش ابھی چاک سے وابستہ ہے
میری فطرت نہیں میں غیر کے رستے پہ چلوں
میری نسبت بھی میری ناک سے وابستہ ہے
وہ جو آئی تھی میرے سائیں کے قدموں کے تلے
میری ہستی تو اسی خاک سے وابستہ ہے