تیرے لہجے میں یہ جو شدت ہے
یہ کوئی ان کہی شکایت ہے
ہجر کے دُکھ پہ یار حیرت کیا
مستقل وصل بھی اذیت ہے
تجھ کو اب بُھولنے لگا ہوں میں
یہ شکایت نہیں ہے، تہمت ہے
خوشبوؤں سے بنائیں گے تم کو
رنگ سے تو بڑی سہولت ہے
دیکھا جائے تو مر چکے ہیں ہم
سانس لینا تو بس ضرورت ہے
تُو مِرا ہے تو میرے درد سمجھ
مسکرانا تو میری عادت ہے
کیا کِیا، درد کی دوا لے لی
میرے بیمار! تجھ پہ لعنت ہے
میں بس اس وقت اپنے پاس رہا
جب لگا آپ کی ضرورت ہے
تیرے لب، ہائے تیرے شیریں لب
بوسہ لے لوں اگر اجازت ہے
طارق عثمانی
No comments:
Post a Comment