میں خواب میں تھا اک آواز نے کہا یا ہُو
پھر اس کے بعد ہر اک سمت بس سُنا یا ہو
ہے اک نگاہِ قلندر کا لُطفِ خاص کہ میں
بغیر خرقہ و کشکول کہہ اُٹھا؛ یا ہو
یہ اتفاق نہ تھا باز آمدِ شبِ ہجر
اشارہ تھا کہ ہے پھر دل میں گُونجتا یا ہو
میں خواب میں تھا اک آواز نے کہا یا ہُو
پھر اس کے بعد ہر اک سمت بس سُنا یا ہو
ہے اک نگاہِ قلندر کا لُطفِ خاص کہ میں
بغیر خرقہ و کشکول کہہ اُٹھا؛ یا ہو
یہ اتفاق نہ تھا باز آمدِ شبِ ہجر
اشارہ تھا کہ ہے پھر دل میں گُونجتا یا ہو
مجھے تسلیم بے چون و چرا تو حق بجانب تھا
مِرے انفاس پر لیکن عجب پندار غالب تھا
وگرنہ جو ہوا اس سے سوائے رنج کیا حاصل
مگر ہاں مصلحت کی رو سے دیکھیں تو مناسب تھا
میں تیرے بعد جس سے بھی ملا، تیکھا رکھا لہجہ
اس بے لوث چاہت کے عوض اتنا تو واجب تھا
ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی
کہ تیری یاد ہمیں رات بھی نہیں آئی
بچھڑتے وقت جو گرجے وہ کیسے بادل تھے
یہ کیسا ہجر کہ برسات بھی نہیں آئی
تجھے نہ پا سکے ہم اس کا اک سبب یہ ہے
پلٹ کے گردشِ حالات بھی نہیں آئی
بدلتی رُت
مرے ماتھے پہ جو لکھے گی
وہ سب جانتا ہوں میں
کہ میں نے اپنے والد کی
جوانی کی وہ تصویریں
بہت ہی غور سے دیکھی ہیں
جب تم مجھ سے ملنے آؤ
تمہاری اپنی دنیا ہے
تمہارے روز و شب، شام و سحر اپنے
تم اک آزاد پنچھی ہو
مِری جاگیر کا حصہ نہیں ہو تم
مگر کل شام جب تم ملنے آؤ
کارِ جہاں دراز ہے
کوئی ایسا شغل تو ہو زیست کرنے کا
جسے واجب سا کوئی نام دے دیں
خواہ اس میں قصۂ رنگ پریدہ کی
کوئی تمثیل ڈھونڈیں یا کسی اک یاد کو
وہ اسم دے دیں جو گزرتے وقت کا