Showing posts with label شہرام سرمدی. Show all posts
Showing posts with label شہرام سرمدی. Show all posts

Thursday, 23 March 2023

میں خواب میں تھا اک آواز نے کہا یا ہو

میں خواب میں تھا اک آواز نے کہا یا ہُو

پھر اس کے بعد ہر اک سمت بس سُنا یا ہو

ہے اک نگاہِ قلندر کا لُطفِ خاص کہ میں

بغیر خرقہ و کشکول کہہ اُٹھا؛ یا ہو

یہ اتفاق نہ تھا باز آمدِ شبِ ہجر

اشارہ تھا کہ ہے پھر دل میں گُونجتا یا ہو

Tuesday, 27 April 2021

مجھے تسلیم بے چون و چرا تو حق بجانب تھا

 مجھے تسلیم بے چون و چرا تو حق بجانب تھا

مِرے انفاس پر لیکن عجب پندار غالب تھا

وگرنہ جو ہوا اس سے سوائے رنج کیا حاصل

مگر ہاں مصلحت کی رو سے دیکھیں تو مناسب تھا 

میں تیرے بعد جس سے بھی ملا، تیکھا رکھا لہجہ 

اس بے لوث چاہت کے عوض اتنا تو واجب تھا 

Saturday, 24 April 2021

ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

 ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

کہ تیری یاد ہمیں رات بھی نہیں آئی

بچھڑتے وقت جو گرجے وہ کیسے بادل تھے

یہ کیسا ہجر کہ برسات بھی نہیں آئی

تجھے نہ پا سکے ہم اس کا اک سبب یہ ہے

پلٹ کے گردشِ حالات بھی نہیں آئی

Friday, 23 April 2021

بدلتی رت مرے ماتھے پہ جو لکھے گی

 بدلتی رُت


مرے ماتھے پہ جو لکھے گی

وہ سب جانتا ہوں میں

کہ میں نے اپنے والد کی

جوانی کی وہ تصویریں

بہت ہی غور سے دیکھی ہیں

جب تم مجھ سے ملنے آؤ

 جب تم مجھ سے ملنے آؤ


تمہاری اپنی دنیا ہے

تمہارے روز و شب، شام و سحر اپنے

تم اک آزاد پنچھی ہو

مِری جاگیر کا حصہ نہیں ہو تم

مگر کل شام جب تم ملنے آؤ

کوئی ایسا شغل تو ہو زیست کرنے کا

 کارِ جہاں دراز ہے


کوئی ایسا شغل تو ہو زیست کرنے کا

جسے واجب سا کوئی نام دے دیں

خواہ اس میں قصۂ رنگ پریدہ کی

کوئی تمثیل ڈھونڈیں یا کسی اک یاد کو

وہ اسم دے دیں جو گزرتے وقت کا