Saturday, 24 April 2021

ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

 ہمارے ذہن میں یہ بات بھی نہیں آئی

کہ تیری یاد ہمیں رات بھی نہیں آئی

بچھڑتے وقت جو گرجے وہ کیسے بادل تھے

یہ کیسا ہجر کہ برسات بھی نہیں آئی

تجھے نہ پا سکے ہم اس کا اک سبب یہ ہے

پلٹ کے گردشِ حالات بھی نہیں آئی

ہوا یوں ہاتھ سے بازی نکل گئی اک روز

ہمارے حصے میں پھر مات بھی نہیں آئی

الجھ کے رہ گئے کیا ہم بھی کار دنیا میں

کہ نوبت سفر ذات بھی نہیں آئی


شہرام سرمدی

No comments:

Post a Comment