Showing posts with label شمس تبریزی. Show all posts
Showing posts with label شمس تبریزی. Show all posts

Friday, 1 April 2022

جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو

 جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو

تو اپنا ذہن بھی اس کے لیے کشادہ ہو

وہ یاد آئے تو اپنا وجود ہی نہ ملے

نہ یاد آئے تو مجھ کو تھکن زیادہ ہو

پہاڑ کاٹ دوں سورج کو ہاتھ پر رکھ لوں

ذرا خیال میں شامل اگر ارادہ ہو

Thursday, 4 November 2021

ارے مسافر ایک گلاب خریدتا جا

مختصر نظم


 ارے مسافر

ایک گلاب خریدتا جا

ممکن ہے راستے میں 

تجھے اس کا کوئی حقدار مل جائے


شمس تبریزی

Tuesday, 27 April 2021

یوں بظاہر دیکھے تو یار سب

 یوں بظاہر دیکھے تو یار سب

وقت پڑنے پر یہی بے کار سب

مصلحت ہے حق نظر انداز کر

حق کہا جس نے چڑھے وہ دار سب

ہم انا کی پوٹلی تھامے رہے

ہاتھ خالی تھے ہوئے وہ پار سب

Saturday, 24 April 2021

بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

 بہت کم بولنا اب کر دیا ہے

کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے

تم ہم سے پوچھتے ہو کیا کہ ہم نے

بہت سا کام نظروں سے لیا ہے

بہت گرمی پڑی اب کے برس بھی

مئی اور جون مشکل میں جِیا ہے

Friday, 23 April 2021

کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا

 کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا

خود اپنے آپ کو یوں آزمانا ٹھیک ہے کیا

شکار کرتے ہیں اب لوگ ایک تیر سے دو

کہیں نگاہ، کہیں پر نشانہ ٹھیک ہے کیا

بہت سی باتوں کو دل میں بھی رکھنا پڑتا ہے

ہر ایک بات ہر اک کو بتانا ٹھیک ہے کیا

Saturday, 20 March 2021

اجنبی بن کے تو گزرا مت کر

 اجنبی بن کے تو گزرا مت کر

دوستی کا یوں تماشا مت کر

تیری آنکھیں نہیں دو جگنو ہیں

بے سبب ان کو بھگویا مت کر

اس کے آنے کا گماں ہوتا ہے

اے ہوا!! پردہ ہلایا مت کر

Wednesday, 17 March 2021

میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں

 میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں

کہ خواب آنکھ میں ہو آنکھ سو نہ جائے کہیں

میں جانتا ہوں بہت روز وہ نہ ٹھہرے گا

مگر اس عرصے میں وہ زہر بو نہ جائے کہیں

جو ایک عکس بنایا تھا پچھلی بارش میں

وہ شکل اب کے سے برسات دھو نہ جائے کہیں