جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو
تو اپنا ذہن بھی اس کے لیے کشادہ ہو
وہ یاد آئے تو اپنا وجود ہی نہ ملے
نہ یاد آئے تو مجھ کو تھکن زیادہ ہو
پہاڑ کاٹ دوں سورج کو ہاتھ پر رکھ لوں
ذرا خیال میں شامل اگر ارادہ ہو
جو چاہتے ہو کہ منزل تمہاری جادہ ہو
تو اپنا ذہن بھی اس کے لیے کشادہ ہو
وہ یاد آئے تو اپنا وجود ہی نہ ملے
نہ یاد آئے تو مجھ کو تھکن زیادہ ہو
پہاڑ کاٹ دوں سورج کو ہاتھ پر رکھ لوں
ذرا خیال میں شامل اگر ارادہ ہو
مختصر نظم
ارے مسافر
ایک گلاب خریدتا جا
ممکن ہے راستے میں
تجھے اس کا کوئی حقدار مل جائے
شمس تبریزی
یوں بظاہر دیکھے تو یار سب
وقت پڑنے پر یہی بے کار سب
مصلحت ہے حق نظر انداز کر
حق کہا جس نے چڑھے وہ دار سب
ہم انا کی پوٹلی تھامے رہے
ہاتھ خالی تھے ہوئے وہ پار سب
بہت کم بولنا اب کر دیا ہے
کئی موقعوں پہ غصہ بھی پیا ہے
تم ہم سے پوچھتے ہو کیا کہ ہم نے
بہت سا کام نظروں سے لیا ہے
بہت گرمی پڑی اب کے برس بھی
مئی اور جون مشکل میں جِیا ہے
کسی کی چاہ میں دل کو جلانا ٹھیک ہے کیا
خود اپنے آپ کو یوں آزمانا ٹھیک ہے کیا
شکار کرتے ہیں اب لوگ ایک تیر سے دو
کہیں نگاہ، کہیں پر نشانہ ٹھیک ہے کیا
بہت سی باتوں کو دل میں بھی رکھنا پڑتا ہے
ہر ایک بات ہر اک کو بتانا ٹھیک ہے کیا
اجنبی بن کے تو گزرا مت کر
دوستی کا یوں تماشا مت کر
تیری آنکھیں نہیں دو جگنو ہیں
بے سبب ان کو بھگویا مت کر
اس کے آنے کا گماں ہوتا ہے
اے ہوا!! پردہ ہلایا مت کر
میں سوچتا ہوں کبھی ایسا ہو نہ جائے کہیں
کہ خواب آنکھ میں ہو آنکھ سو نہ جائے کہیں
میں جانتا ہوں بہت روز وہ نہ ٹھہرے گا
مگر اس عرصے میں وہ زہر بو نہ جائے کہیں
جو ایک عکس بنایا تھا پچھلی بارش میں
وہ شکل اب کے سے برسات دھو نہ جائے کہیں