Saturday, 20 March 2021

اجنبی بن کے تو گزرا مت کر

 اجنبی بن کے تو گزرا مت کر

دوستی کا یوں تماشا مت کر

تیری آنکھیں نہیں دو جگنو ہیں

بے سبب ان کو بھگویا مت کر

اس کے آنے کا گماں ہوتا ہے

اے ہوا!! پردہ ہلایا مت کر

میں مسافر ہوں سفر قسمت ہے

میرے بارے میں تُو سوچا مت کر

زندگی ہو کہ محبت ہو شمس

ایسی چیزوں پہ بھروسہ مت کر


شمس تبریزی

No comments:

Post a Comment