اجنبی بن کے تو گزرا مت کر
دوستی کا یوں تماشا مت کر
تیری آنکھیں نہیں دو جگنو ہیں
بے سبب ان کو بھگویا مت کر
اس کے آنے کا گماں ہوتا ہے
اے ہوا!! پردہ ہلایا مت کر
میں مسافر ہوں سفر قسمت ہے
میرے بارے میں تُو سوچا مت کر
زندگی ہو کہ محبت ہو شمس
ایسی چیزوں پہ بھروسہ مت کر
شمس تبریزی
No comments:
Post a Comment