Saturday, 20 March 2021

دکھ سے غیروں کے پگھلتا کون ہے

 دکھ سے غیروں کے پگھلتا کون ہے

خود سے باہر اب نکلتا کون ہے

برف سی تاثیر سب کی ہو گئی

ظلم سہہ کر اب ابلتا کون ہے

غیر کو ہی سب بدلنے میں رہے

اپنی فطرت کو بدلتا کون ہے

چھوڑ دو اس کو اسی کے حال پر

عشق میں پڑ کر سنبھلتا کون ہے

زندگی بھر جو نہ کھائے ٹھوکریں

کھول کر آنکھیں یوں چلتا کون ہے

دور مجھ سے ہو گیا بچپن مگر

مجھ میں بچے سا مچلتا کون ہے

خواہشوں پر قید کلکل کیوں لگے

عمر کے سانچے میں ڈھلتا کون ہے


راجندر کلکل

No comments:

Post a Comment