دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کے
ہیں کرم کی طرح ستم اس کے
جس کو اچھا لگے نہ جام سفال
ہاتھ میں دے دو جام جم اس کے
رونقیں بڑھ گئیں مرے گھر کی
ہیں مبارک بہت قدم اس کے
دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کے
ہیں کرم کی طرح ستم اس کے
جس کو اچھا لگے نہ جام سفال
ہاتھ میں دے دو جام جم اس کے
رونقیں بڑھ گئیں مرے گھر کی
ہیں مبارک بہت قدم اس کے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
دیار مصطفیٰﷺ کی آرزو ہے
درِ خیرالوریٰﷺ کی آرزو ہے
لگا لے آنکھ سے روضے کی جالی
یہ ان کے ہر گدا کی آرزو ہے
ملے حسنینؑ کا مجھ کو اتارا
غلامِ مصطفیٰؐ کی آرزو ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
میرے آقاؐ مرے سرکارؐ مدینے والے
دیکھ لوں طیبہ کا گلزار مدینے والے
زحمتِ لطف ہو سرکارؐ مدینے والے
سر پہ عصیاں کا ہے انبار مدینے والے
تم غریبوں کے ہو غمخوار مدینے والے
ہو ادھر بھی نظر اک بار مدینے والے
تخت و تاج اور نہ کچھ مال و زر چاہیے
مجھ کو تو صرف اس کی خبر چاہیے
دھوپ آنگن سے جاتی نہیں ہے کبھی
سائے کے واسطے اک شجر چاہیے
در بدر ٹھوکریں کھا کے آیا ہوں میں
میرے سر کو تِرا سنگ در چاہیے