Sunday, 4 January 2026

دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کے

 دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کے

ہیں کرم کی طرح ستم اس کے

جس کو اچھا لگے نہ جام سفال

ہاتھ میں دے دو جام جم اس کے

رونقیں بڑھ گئیں مرے گھر کی

ہیں مبارک بہت قدم اس کے

وہ ہمیں بھولنے لگا شاید

اب تو آتے ہیں خواب کم اس کے

سب کے سب لا جواب بیٹھے ہیں

ہے سوالوں میں کتنا دم اس کے

اب وہ لکھے گا بھوک کی روداد

ہاتھ میں آ گیا قلم اس کے

اس نے بخشے تھے داغ جو ہم کو

ہیں سلامت وہ سارے غم اس کے


داغ نیازی

No comments:

Post a Comment