دل مبارک ہوں تجھ کو غم اس کے
ہیں کرم کی طرح ستم اس کے
جس کو اچھا لگے نہ جام سفال
ہاتھ میں دے دو جام جم اس کے
رونقیں بڑھ گئیں مرے گھر کی
ہیں مبارک بہت قدم اس کے
وہ ہمیں بھولنے لگا شاید
اب تو آتے ہیں خواب کم اس کے
سب کے سب لا جواب بیٹھے ہیں
ہے سوالوں میں کتنا دم اس کے
اب وہ لکھے گا بھوک کی روداد
ہاتھ میں آ گیا قلم اس کے
اس نے بخشے تھے داغ جو ہم کو
ہیں سلامت وہ سارے غم اس کے
داغ نیازی
No comments:
Post a Comment