یہ سزا ہے کہ دعا ہے کیا ہے
عشق نعمت ہے بلا ہے کیا ہے
داغِ خوں، رنگِ حنا ہے کیا ہے
تیرے دامن پہ لگا ہے کیا ہے
شور ہے دل کی صدا ہے کیا ہے
کوئی دستک ہے ہوا ہے کیا ہے
نظریں ملتے ہیں جھکا لیتی ہو
یہ حیا ہے کہ ادا ہے کیا ہے
درمیاں تیرے میرے ہے کچھ تو
یہ تکبر ہے انا ہے کیا ہے
پیٹھ پر میری چلا ہے خنجر
کوئی انعامِ وفا ہے کیا ہے
شکریہ کرتے انیس آپ میرا
شکر شکوہ کہ گِلہ ہے کیا ہے
انیس شاہ
No comments:
Post a Comment