Sunday, 4 January 2026

یہ سزا ہے کہ دعا ہے کیا ہے

 یہ سزا ہے کہ دعا ہے کیا ہے

عشق نعمت ہے بلا ہے کیا ہے

داغِ خوں، رنگِ حنا ہے کیا ہے

تیرے دامن پہ لگا ہے کیا ہے

شور ہے دل کی صدا ہے کیا ہے

کوئی دستک ہے ہوا ہے کیا ہے

نظریں ملتے ہیں جھکا لیتی ہو

یہ حیا ہے کہ ادا ہے کیا ہے

درمیاں تیرے میرے ہے کچھ تو

یہ تکبر ہے انا ہے کیا ہے

پیٹھ پر میری چلا ہے خنجر

کوئی انعامِ وفا ہے کیا ہے

شکریہ کرتے انیس آپ میرا

شکر شکوہ کہ گِلہ ہے کیا ہے


انیس شاہ

No comments:

Post a Comment