Saturday, 24 January 2026

خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم

 باز آئے اس مذاقِ غمِ عاشقی سے ہم

خوش ہم سے زندگی ہے نہ خوش زندگی سے ہم

کچھ اس ادا سے ہو گئی بے گانہ وہ نظر

شکوہ بھی کر سکے نہ کسی کا کسی سے ہم

یہ شانِ دلبری ہے کہ اندازِ احتیاط

گویا نگاہِ حُسن میں ہیں اجنبی سے ہم

با وصفِ ضبط ہو گئی دنیا پہ آشکار

جو بات دل کی کہہ نہ سکے تھے کسی سے ہم

پھر جا رہے ہیں کوچۂ جاناں کی سمت سیف

مجبور ہو کے شوق کی وارفتگی سے ہم


سیف بجنوری

No comments:

Post a Comment