Sunday, 18 January 2026

مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی

عمر گئی الفت زر جی سے الٰہی نہ گئی

مو سفید ہو گئے پر دل کی سیاسی نہ گئی

جی میں ٹھانا تھا کہ ہم ہجر میں جینے کے نہیں

مر گئے آہ یہ بات ہم سے نباہی نہ گئی

عمر گئی ہجر میں دل کرتا ہے مذکور وصال

بات اب تک یہی دیوانے کی واہی نہ گئی

جی گوارا نہیں کرتا کہ کروں منت خلق

ہو گئے گرچہ گدا دل سے وہ شاہی نہ گئی

دختر رز سے فقط میں نہیں محفوظ حضور

کون مجلس ہے کہ جس میں یہ سراہی نہ گئی


حضورعظیم آبادی

غلام یحییٰ  

No comments:

Post a Comment