Saturday, 17 January 2026

خول انساں نے سیاست کا چڑھا رکھا ہے

 خول انساں نے سیاست کا چڑھا رکھا ہے

نقلی چہرے کو نقابوں میں چھپا رکھا ہے

آپ آ جائیں تو یہ بزم حسیں ہو جائے

آپ کی یاد سے محفل کو سجا رکھا ہے

ہم کو معلوم ہے دل جوئی کا انجام مگر

ہم نے دشمن کو کلیجے سے لگا رکھا ہے

پہلے احساس مروت نہیں آیا تم کو

اب ندامت ہے تو چہرے کو چھپا رکھا ہے

ظلم نا حق جسے کہتے تھے زمانے والے

نام لوگوں نے سعید ان کا انا رکھا ہے


سید سعید احمد کڑوی

No comments:

Post a Comment