خول انساں نے سیاست کا چڑھا رکھا ہے
نقلی چہرے کو نقابوں میں چھپا رکھا ہے
آپ آ جائیں تو یہ بزم حسیں ہو جائے
آپ کی یاد سے محفل کو سجا رکھا ہے
ہم کو معلوم ہے دل جوئی کا انجام مگر
ہم نے دشمن کو کلیجے سے لگا رکھا ہے
پہلے احساس مروت نہیں آیا تم کو
اب ندامت ہے تو چہرے کو چھپا رکھا ہے
ظلم نا حق جسے کہتے تھے زمانے والے
نام لوگوں نے سعید ان کا انا رکھا ہے
سید سعید احمد کڑوی
No comments:
Post a Comment