Sunday, 18 January 2026

حضرت دل کا ترے نام سے اٹھنا گرنا

 حضرتِ دل کا تِرے نام سے اٹھنا گرنا

وہی پہلے کی طرح شام سے اٹھنا گرنا

پھر چلے جائیں گے وہ پھر وہی فرقت ہو گی

کس لیے وصل کے ہنگام سے اٹھنا گرنا

کس کو فرصت ہے یہاں کون اذیت دے گا

وہ تو بس وحشت آلام سے اٹھنا گرنا

میں مہذب ہوں مِرے ساتھ ادب سے بیٹھو

میں چلا جاؤں تو آرام سے اٹھنا گرنا

جب تمہیں مجھ سے ذرا سی بھی محبت نہ رہی

تو غلط ہے نہ مِرے نام سے اٹھنا گرنا


مختار انصاری

No comments:

Post a Comment