عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہر دل کی تسلی بھی ہے، ہر غم کی دوا بھی
کیا چیز ہے مولاﷺ تیری خاکِ کفِ پا بھی
ہونے کو تو ہو گی دلِ مضطر کی دوا بھی
اکسیر ہے لیکن تیرےﷺ دامن کی ہوا بھی
لب پر ہے تیراﷺ نام تو کیا اور طلب ہو
اے صل علیٰﷺ یہ تو دوا بھی ہے دُعا بھی
میں تم سے وہ کہتا ہوں جو کہنا ہے خدا سے
جب تم مِری سُن لو گے تو سُن لے گا خدا بھی
میں دل میں وہ جلوے ہوں تو دنیا ہے منور
جینے کی غرض ہے کوئی جینے کے سوا بھی
منور بدایونی
No comments:
Post a Comment