سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے
جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے
بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں
جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے
ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی
مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے
قیامت ہے جو اب یہ خفتگان خاک دل جاگیں
کوئی اس کہنہ ویرانے کو پھر آباد کرتا ہے
کہا ہو کچھ کبھی مجھ سے تو اے چارہ گرو جانوں
میں کیا کہہ دوں دل بیمار کس کو یاد کرتا ہے
سرآمد عشق ہے پاتا ہے کوئی دل نصیبوں سے
پھر اپنے واسطے معشوق خود ایجاد کرتا ہے
برا کہنا مجھے اس کا وظیفہ ہے تو ہونے دو
وہ خود کو یوں مرے آسیب سے آزاد کرتا ہے
محمد اعظم
No comments:
Post a Comment