Friday, 23 January 2026

سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے

 سبک مجھ کو محبت میں یہ کج افتاد کرتا ہے

جو میں ہرگز نہ کرتا وہ مرا ہمزاد کرتا ہے

بکھر کر بھی اسی کو ڈھونڈتی ہیں ہر طرف آنکھیں

جو مجھ کو اک نگہ میں اک سے لاتعداد کرتا ہے

ہوئی ہیں شور دل میں غرق تعبیریں صداؤں کی

مگر اتنی خبر ہے کوئی کچھ ارشاد کرتا ہے

قیامت ہے جو اب یہ خفتگان خاک دل جاگیں

کوئی اس کہنہ ویرانے کو پھر آباد کرتا ہے

کہا ہو کچھ کبھی مجھ سے تو اے چارہ گرو جانوں

میں کیا کہہ دوں دل بیمار کس کو یاد کرتا ہے

سرآمد عشق ہے پاتا ہے کوئی دل نصیبوں سے

پھر اپنے واسطے معشوق خود ایجاد کرتا ہے

برا کہنا مجھے اس کا وظیفہ ہے تو ہونے دو

وہ خود کو یوں مرے آسیب سے آزاد کرتا ہے


محمد اعظم

No comments:

Post a Comment