یوں بسایا گیا زمینوں کو
گھر سے بے گھر کیا مکینوں کو
ہاتھ چھوڑ آئے کام کے بدلے
سُکھ مِلا تنگ آستینوں کو
میری عینک سے پڑھ سکو تو پڑھو
دُھول چاٹی ہوئی جبینوں کو
وہ تو البم میں رکھ کے بھول گیا
ساتھ بیتے ہوئے مہینوں کو
چڑھ نہ پاؤ گے، توڑنا ہو گا
اس حویلی کے تنگ زینوں کو
میں نہ ماضی، نہ حال و مستقبل
کیوں کھٹکتا ہوں نکتہ چینوں کو
مرتضیٰ علی شاد
ایم اے شاد
No comments:
Post a Comment