Wednesday, 21 January 2026

یوں بسایا گیا زمینوں کو

 یوں بسایا گیا زمینوں کو

گھر سے بے گھر کیا مکینوں کو

ہاتھ چھوڑ آئے کام کے بدلے

سُکھ مِلا تنگ آستینوں کو

میری عینک سے پڑھ سکو تو پڑھو

دُھول چاٹی ہوئی جبینوں کو

وہ تو البم میں رکھ کے بھول گیا

ساتھ بیتے ہوئے مہینوں کو

چڑھ نہ پاؤ گے، توڑنا ہو گا

اس حویلی کے تنگ زینوں کو

میں نہ ماضی، نہ حال و مستقبل

کیوں کھٹکتا ہوں نکتہ چینوں کو


مرتضیٰ علی شاد

ایم اے شاد

No comments:

Post a Comment