بھیڑیے کا مقدمہ
اشرف المخلوقات آدمی
کیا کبھی بھیڑیوں نے ہوس کا شکم
اپنے ہی کمسنوں کے بدن سے بھرا؟
کیا کبھی بھیڑیے اپنی مادہ کی مرضی کو جانے بنا
اس کے نزدیک جاتے دکھائی دئیے؟
کوئی ایسی گواہی ملی
کہ کہیں بھیڑیوں نے کچھاروں میں کل کے لیے
گوشت کا کوئی ٹکڑا بچا کر رکھا؟
ہے کوئی جس نے دیکھا ہو ایسا کوئی بھیڑیا
اپنے کنبے کے بچوں کی خوراک میں
جو منافع کمانے کی خاطر ملاوٹ کرے؟
کوئی تحقیق ہے جو یہ ثابت کرے بھیڑیے
پوری تاریخ میں مذہبوں میں کبھی بٹ گئے
یا پھر اک دوسرے کو بنامِ خدا قتل کرتے رہے؟
کیا کوئی ایسا سیاح موجود ہے
جو بتائے کبھی بھیڑیوں کی کسی فوج نے
اپنے ہی بھیڑیوں کو اٹھا کر کہیں لاپتہ کر دیا؟
کیا کسی داستاں میں سنا ہے کوئی بھیڑیا
بھیڑیوں کو خدا سے ڈرا کر بناتا رہا
مسجدیں، چرچ، مندر یا چندے کے گھر؟
کوئی ہے جو یہ ثابت کرے
بھیڑیوں نے کہیں
رنگ، مذہب، قبیلے، ثقافت، زباں
یا سیاسی مقاصد کے خاطر زمیں بانٹ لی؟
اس زمیں کی حرارت کا
درجہ بڑھانے میں بھی
بھیڑیوں کے کسی کارخانے کا کردار ہے؟
اشرف المخلوقات آدمی
بھیڑیا اپنی فطرت میں خوددار ہے
اپنی نسلوں کا ازلی وفادار ہے
بھیڑیے کی
تلاشی غذا پر ہے سب بھیڑیوں کا
برابر کا حق
بھیڑیا اپنی حد سے تجاوز کا ہرگز نہیں سوچتا
بھیڑیا اپنے بچوں کی آنکھیں نہیں نوچتا
بھیڑیا بھوک سے مر بھی جائے مگر
اپنے جنگل پہ بم پھینکنے کا نہیں سوچتا
اشرف المخلوقات آدمی
اپنی حرص و ہوس کی پرستش میں مصروف
بے رحم لوگوں کو
تم چاہے جو بھی کہو
بھیڑیا مت کہو
شعیب کیانی
No comments:
Post a Comment