عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ مہرباں ہے محمدﷺ کے شہر میں
ہر شخص شادماں ہے محمدﷺ کے شہر میں
کیا رت ہے کیا سماں ہے ہے محمدﷺ کے شہر میں
ہر چیز نعت خواں ہے محمدﷺ کے شہر میں
دنیا کے ساتھ ساتھ ملی آخرت کی خیر
انعامِ دو جہاں ہے محمدﷺ کے شہر میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اللہ مہرباں ہے محمدﷺ کے شہر میں
ہر شخص شادماں ہے محمدﷺ کے شہر میں
کیا رت ہے کیا سماں ہے ہے محمدﷺ کے شہر میں
ہر چیز نعت خواں ہے محمدﷺ کے شہر میں
دنیا کے ساتھ ساتھ ملی آخرت کی خیر
انعامِ دو جہاں ہے محمدﷺ کے شہر میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ساری امت ہے پریشان رسول عربیﷺ
کون اس کا ہے نگہبان رسول عربیﷺ
آپ کے دین کے رکھوالوں کا یہ عالم ہے
بیچ بیٹھے ہیں وہ قرآن رسول عربیﷺ
آخرت بیچتے ہیں دولتِ دنیا کے عوض
چند پیسوں کا ایمان رسول عربیﷺ
تاریخ میں یہ حادثہ پہلے ہوا نہ تھا
دھوکا کسی نے ایسے کسی کو دیا نہ تھا
الزامِ انہدام تمہیں کس لیے نہ دوں
کوئی وہاں تمہارے سوا دوسرا نہ تھا
کل ہم بھی حکمراں تھے اسی سرزمین پر
نا حق کسی پہ ظلم کسی کا ہوا نہ تھا
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اے ہم سفرو ٹھہرو یہ شہر مدینہ ہے
اس شہر میں مرنا ہے اس شہر میں جینا ہے
سانسوں میں ہے ذکرِ حق آنکھوں میں مدینہ ہے
دل میں شہِ بطحٰیؐ کی الفت کا خزینہ ہے
امداد کا طالب ہوں، آ جائیے دم بھر کو
گردش میں مقدر ہے طوفاں میں سفینہ ہے
تمہارا شہر تو شہر شفا لگے ہے مجھے
تمام زخموں کو اب فائدہ لگے ہے مجھے
وفا کی راہ پہ چلنے سے پڑ گئے چھالے
یہ رہ گزر تو خطِ اُستواء لگے ہے مجھے
تمہارے حسن سے روشن ہے کائنات مِری
تمہارے حسن کا یہ معجزہ لگے ہے مجھے