Showing posts with label زہرا علوی. Show all posts
Showing posts with label زہرا علوی. Show all posts

Friday, 27 June 2025

عرش ہل گیا ہو گا سجدہ رو پڑا ہو گا

 ایاک‌ نعبد و ایاک نستعین


سوچتی ہوں

جلتے بجھتے خیمے تھے

تشنگی کی شدت سے

چھوٹے چھوٹے بچوں کے بند ہوتی آنکھیں تھیں

اشقیا کا نرغہ تھا

فتح کے نقارے تھے

Tuesday, 27 April 2021

میسج؛ اے غزالی آنکھوں والی

 میسج


اے غزالی آنکھوں والی 

سنا ہے تمہارے شہر میں چائے اچھی ملتی ہے 

سو میں چائے پینے آ جاؤں 

تم بھی کسی کیفے میں آ جانا 

اور سنو 

Friday, 19 March 2021

جان بہاراں کب آؤ گے

 جان بہاراں کب آؤ گے


جانِ بہاراں کب آؤ گے؟

درد کے درماں کب آؤ گے

کب آؤ گے میرے پیا تم

حاصلِ ارماں کب آؤ گے

ٹوٹ رہی ہیں میری امیدیں

صاحبِ پیماں کب آؤ گے

Thursday, 18 March 2021

وہ بولتی کچھ بھی نہیں

 وہ بولتی کچھ بھی نہیں


ہنستی مسکراتی ہے 

نہ اب کھلکھلاتی ہے 

وہ گھر سے باہر جاتے ہوئے 

ڈر ڈر سی جاتی ہے 

خود کو پردوں میں چھپاتی ہے

Wednesday, 17 March 2021

سلامت رونقیں یارب در بزم بہاراں پر

 سلامت رونقیں یا رب، درِ بزمِ بہاراں پر

'ابھی باقی ہے کچھ کچھ دھوپ،دیوارِگلستاں پر'

سنا ہے تِتلیاں تجھ سے ہی سارے رنگ لیتی ہیں

سنا جگنو ٹھہرتے ہیں تِری ہی نوکِ مژگاں پر

تِری نمناک آنکھوں پر لٹا دوں راحتیں ساری

سبھی شامیں کروں قرباں تِری زلفِ پریشاں پر

خواہش جستجو ہو تم شاید

 خواہشِ جستجو ہو تم شاید

حاصلِ آرزو ہو تم شاید

نیم تاریک شب کی خاموشی

شام کی گفتگو ہو تم شاید

یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا

یا تو پھر ہو بہ ہو ہو تم شاید

Tuesday, 16 March 2021

کبھی کبھی جی یہ چاہتا ہے

 طبیعت کے رنگ


کبھی کبھی

جی یہ چاہتا ہے

چاند تک کی سیڑھی بناؤں

بادل ہوا میں اڑا دوں

لے کر رنگوں کی کچی پنسل