ایاک نعبد و ایاک نستعین
سوچتی ہوں
جلتے بجھتے خیمے تھے
تشنگی کی شدت سے
چھوٹے چھوٹے بچوں کے بند ہوتی آنکھیں تھیں
اشقیا کا نرغہ تھا
فتح کے نقارے تھے
ایاک نعبد و ایاک نستعین
سوچتی ہوں
جلتے بجھتے خیمے تھے
تشنگی کی شدت سے
چھوٹے چھوٹے بچوں کے بند ہوتی آنکھیں تھیں
اشقیا کا نرغہ تھا
فتح کے نقارے تھے
میسج
اے غزالی آنکھوں والی
سنا ہے تمہارے شہر میں چائے اچھی ملتی ہے
سو میں چائے پینے آ جاؤں
تم بھی کسی کیفے میں آ جانا
اور سنو
جان بہاراں کب آؤ گے
جانِ بہاراں کب آؤ گے؟
درد کے درماں کب آؤ گے
کب آؤ گے میرے پیا تم
حاصلِ ارماں کب آؤ گے
ٹوٹ رہی ہیں میری امیدیں
صاحبِ پیماں کب آؤ گے
وہ بولتی کچھ بھی نہیں
ہنستی مسکراتی ہے
نہ اب کھلکھلاتی ہے
وہ گھر سے باہر جاتے ہوئے
ڈر ڈر سی جاتی ہے
خود کو پردوں میں چھپاتی ہے
سلامت رونقیں یا رب، درِ بزمِ بہاراں پر
'ابھی باقی ہے کچھ کچھ دھوپ،دیوارِگلستاں پر'
سنا ہے تِتلیاں تجھ سے ہی سارے رنگ لیتی ہیں
سنا جگنو ٹھہرتے ہیں تِری ہی نوکِ مژگاں پر
تِری نمناک آنکھوں پر لٹا دوں راحتیں ساری
سبھی شامیں کروں قرباں تِری زلفِ پریشاں پر
خواہشِ جستجو ہو تم شاید
حاصلِ آرزو ہو تم شاید
نیم تاریک شب کی خاموشی
شام کی گفتگو ہو تم شاید
یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا
یا تو پھر ہو بہ ہو ہو تم شاید
طبیعت کے رنگ
کبھی کبھی
جی یہ چاہتا ہے
چاند تک کی سیڑھی بناؤں
بادل ہوا میں اڑا دوں
لے کر رنگوں کی کچی پنسل