Wednesday, 17 March 2021

خواہش جستجو ہو تم شاید

 خواہشِ جستجو ہو تم شاید

حاصلِ آرزو ہو تم شاید

نیم تاریک شب کی خاموشی

شام کی گفتگو ہو تم شاید

یا تو یہ عکسِ ذات ہے میرا

یا تو پھر ہو بہ ہو ہو تم شاید

آج پھر حرف سانس لینے لگے

آج پھر رو برو ہو تم شاید

وہ نویدِ صبحِ بہار ہے جو

اسی رُت کی نمو ہو تم شاید


زہرا علوی

No comments:

Post a Comment