Showing posts with label عمیر قریشی. Show all posts
Showing posts with label عمیر قریشی. Show all posts

Tuesday, 2 March 2021

تمہارا سوگ خوشی سے اگر مناتا میں

تمہارا سوگ خوشی سے اگر مناتا میں

سیہ لباس بھلا کس لیے سِلاتا میں

وگرنہ حال تجھے دل کا میں سنا دیتا

پرائی آنکھ سے آنسو نہیں بہاتا میں

کرائے دار کے جیسی تھی زندگی میری

قیام دائمی ہوتا تو گھر بناتا میں

Friday, 26 February 2021

میں ترے لطف کا حقدار نہیں ہو سکتا

 میں تِرے لطف کا حقدار نہیں ہو سکتا

پھر بھی خواہش سے تو انکار نہیں ہو سکتا

میاں دریائے محبت ہے میسر اس میں

گھڑا ہو سکتا ہے، پتوار نہیں ہو سکتا

تجھے قرطاس پہ لاؤں گا سحر کی صورت

صورتِ شب تو نمودار نہیں ہو سکتا

Thursday, 14 January 2021

ہجر کاٹوں گا اسے کاٹ کے آدھا کروں گا

 ہجر کاٹوں گا اسے کاٹ کے آدھا کروں گا

کام دنیا کے میں پہلے سے زیادہ کروں گا

میں بھی جدت کے تقاضوں کا نبھاؤں گا مگر

نئے انداز میں ہر بات کو سادہ کروں گا

ہجر کی رات جلاؤں گا میں یادوں کے چراغ

اور تنہائی کی وخشت کو لبادہ کروں گا

Wednesday, 13 January 2021

سانس گھٹنے لگی تھی وقت کی رفتار کے ساتھ

 سانس گھٹنے لگی تھی وقت کی رفتار کے ساتھ

عشق میں موت کا خدشا بھی تھا آزار کے ساتھ

شور باہر کا جو اندر نہیں آنے دیتی

میں وہ سنسان گلی ہوں کسی بازار کے ساتھ

گھر بچایا تھا مِرا اس نے ہی مسماری سے

ایک دیوار جڑی تھی مِری دیوار کے ساتھ

Tuesday, 12 January 2021

چلو کچھ دور چلتے ہیں کسی سنسان رستے پر

 چلو کچھ دور چلتے ہیں

کسی سنسان رستے پر

کسی ویران وادی میں

کسی جنگل کے گوشے میں

جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا

جہاں کوئی نہیں رہتا

ڈھانپ لے گی بدن زمین مرا

 ڈھانپ لے گی بدن زمین مِرا

تم کرو گے جبھی یقین مرا

جیسے سرگرم ہے رقیب ضرور

پتہ کاٹے گا یہ لعین مرا

میں بچاؤ میں وار کرنے لگا

خوف بننے لگا یقین مرا

Monday, 11 January 2021

یا تو جینے سے ڈر گیا ہوں میں

 یا تو جینے سے ڈر گیا ہوں میں

یا حقیقت میں مر گیا ہوں میں

مجھ سے ڈرتے ہیں اب در و دیوار

بعد مدت جو گھر گیا ہوں میں

اب نہ سوچوں گا بات طے کی تھی

بات کر کے مُکر گیا ہوں میں