تمہارا سوگ خوشی سے اگر مناتا میں
سیہ لباس بھلا کس لیے سِلاتا میں
وگرنہ حال تجھے دل کا میں سنا دیتا
پرائی آنکھ سے آنسو نہیں بہاتا میں
کرائے دار کے جیسی تھی زندگی میری
قیام دائمی ہوتا تو گھر بناتا میں
تمہارا سوگ خوشی سے اگر مناتا میں
سیہ لباس بھلا کس لیے سِلاتا میں
وگرنہ حال تجھے دل کا میں سنا دیتا
پرائی آنکھ سے آنسو نہیں بہاتا میں
کرائے دار کے جیسی تھی زندگی میری
قیام دائمی ہوتا تو گھر بناتا میں
میں تِرے لطف کا حقدار نہیں ہو سکتا
پھر بھی خواہش سے تو انکار نہیں ہو سکتا
میاں دریائے محبت ہے میسر اس میں
گھڑا ہو سکتا ہے، پتوار نہیں ہو سکتا
تجھے قرطاس پہ لاؤں گا سحر کی صورت
صورتِ شب تو نمودار نہیں ہو سکتا
ہجر کاٹوں گا اسے کاٹ کے آدھا کروں گا
کام دنیا کے میں پہلے سے زیادہ کروں گا
میں بھی جدت کے تقاضوں کا نبھاؤں گا مگر
نئے انداز میں ہر بات کو سادہ کروں گا
ہجر کی رات جلاؤں گا میں یادوں کے چراغ
اور تنہائی کی وخشت کو لبادہ کروں گا
سانس گھٹنے لگی تھی وقت کی رفتار کے ساتھ
عشق میں موت کا خدشا بھی تھا آزار کے ساتھ
شور باہر کا جو اندر نہیں آنے دیتی
میں وہ سنسان گلی ہوں کسی بازار کے ساتھ
گھر بچایا تھا مِرا اس نے ہی مسماری سے
ایک دیوار جڑی تھی مِری دیوار کے ساتھ
چلو کچھ دور چلتے ہیں
کسی سنسان رستے پر
کسی ویران وادی میں
کسی جنگل کے گوشے میں
جہاں کچھ بھی نہیں ہوتا
جہاں کوئی نہیں رہتا
ڈھانپ لے گی بدن زمین مِرا
تم کرو گے جبھی یقین مرا
جیسے سرگرم ہے رقیب ضرور
پتہ کاٹے گا یہ لعین مرا
میں بچاؤ میں وار کرنے لگا
خوف بننے لگا یقین مرا
یا تو جینے سے ڈر گیا ہوں میں
یا حقیقت میں مر گیا ہوں میں
مجھ سے ڈرتے ہیں اب در و دیوار
بعد مدت جو گھر گیا ہوں میں
اب نہ سوچوں گا بات طے کی تھی
بات کر کے مُکر گیا ہوں میں