Tuesday, 12 January 2021

ڈھانپ لے گی بدن زمین مرا

 ڈھانپ لے گی بدن زمین مِرا

تم کرو گے جبھی یقین مرا

جیسے سرگرم ہے رقیب ضرور

پتہ کاٹے گا یہ لعین مرا

میں بچاؤ میں وار کرنے لگا

خوف بننے لگا یقین مرا

کر گیا خالی یہ آستین مری

دوست اک سانپ سا حسین مرا

ہو گیا ہوں کھنڈر میں میں تبدیل

جا کے لوٹا نہیں مکین مرا

بچ نکلتے ہیں لوگ عشق سے پر

یہ تجربہ تھا بدترین مرا

فلم میں اس کی زندگی کی عمیر

چند سیکنڈ کا تھا سین مرا


عمیر قریشی

No comments:

Post a Comment