دل کے ٹکڑوں کا مول ہو کیسے
کرچیوں کا کوئی بازار نہیں
تیرے چہرے پہ کتنے چہرے ہیں
کوئی بھی مجھ پہ اب نثار نہیں
جا تجھے معاف کر دیا میں نے
کہ محبت ہے، کاروبار نہیں
دل میرا درد آشنا جو ہوا
اب ہنسی ہونٹوں پر ادھار نہیں
عشق اک دلربا کا ہے قصہ
جس کی قسمت میں وصلِ یار نہیں
تاشفین فاروقی
No comments:
Post a Comment