Tuesday, 12 January 2021

دل کے ٹکڑوں کا مول ہو کیسے

 دل کے ٹکڑوں کا مول ہو کیسے

کرچیوں کا کوئی بازار نہیں

تیرے چہرے پہ کتنے چہرے ہیں

کوئی بھی مجھ پہ اب نثار نہیں

جا تجھے معاف کر دیا میں نے

کہ محبت ہے، کاروبار نہیں

دل میرا درد آشنا جو ہوا

اب ہنسی ہونٹوں پر ادھار نہیں

عشق اک دلربا کا ہے قصہ

جس کی قسمت میں وصلِ یار نہیں


تاشفین فاروقی

No comments:

Post a Comment