کھِلا جو پھول کوئی، کوئی پھول مرجھایا
تضادِ زیست نے ہر رنگ میں سِتم ڈھایا
جنوں سے کم تو نہیں ہے یہ شدتِ احساس
جو شاخِ گل کہیں لچکی تو سانپ لہرایا
ہر ایک لمحۂ گزراں کا احترام کرو
بچھڑنے والا کبھی لوٹ کر نہیں آیا
نگاہِ یار کی یہ روشنی رہے تو رہے
وگرنہ دہر میں جو کچھ ہے سر بسر سایا
رہا ہے پیشۂ آباء سپہ گری جاوید
یہ اور بات ہمیں شاعری نے اپنایا
عبداللہ جاوید
No comments:
Post a Comment