کیا کیا ہوئی ہے ہم پہ عنایت کبھی کبھی
آئی ہے جب حضور کی ساعت کبھی کبھی
محفل میں اہتزاز کا ساماں بہت سہی
ملتی ہے قلب و روح کو لذت کبھی کبھی
گر کر اٹھے تو جادہ و منزل تھے سامنے
کھلتی ہے یوں بھی راہِ ہدایت کبھی کبھی
یادش بخیر حضرتِ زاہد کہ جن کے ساتھ
رہتی تھی مہرخوں سے بھی صحبت کبھی کبھی
دنیا نے دیکھ لی ہے قیامت بہ چشمِ سر
پوری ہوئی ہے جب تِری حجت کبھی کبھی
وہ لوگ کیا ہوئے کہ سناتے تھے کو بہ کو
اک شہرِ آرزو کی حکایت کبھی کبھی
وہ روز و شب کہاں، مگر کرتی ہے بیقرار
اب بھی خیالِ یار کی حدت کبھی کبھی
طفلی میں اک خیال تھی، پھر جسم و جاں ہوئی
اک ماہِ نیم ماہ کی صورت کبھی کبھی
اِس کے سوا کچھ اور بھی دنیا میں ہے کہیں
دیکھیں نا کر کے ترکِ محبت کبھی کبھی
جاوید احمد غامدی
No comments:
Post a Comment