میں سوچ رہا تھا
کہ گانٹھ کھول کر
ساری شکایتیں پھینک دوں
جب گانٹھ کُھل گئی
میرے چاروں طرف
ایک گُنجان شہر پھیل گیا
میں سوچ رہا تھا
کہ گانٹھ کھول کر
ساری شکایتیں پھینک دوں
جب گانٹھ کُھل گئی
میرے چاروں طرف
ایک گُنجان شہر پھیل گیا
رد عمل
میں نے جب بھی سچ کو جنا
جُھوٹ کے سوداگر فرشتوں نے
آ کر میرے ماتھے پر
شیطان لِکھ دیا
غنی پہوال
مت بھولنا
تمہاری آنکھوں کی بصیرتوں میں
میں زندہ رہوں گا
جس طرح میری آنکھوں میں
میرا باپ سانس لیتا ہے
غنی پہوال
برگد
ایک نظارہ مجھ میں ہمیشہ زندہ ہے
میری بے حس و حرکت ماں
چارپائی پر پڑی ہے
کچھ ہمسائیاں بین کرتی ہوئی
اُسے سفید چادر اوڑھا رہی ہیں
ماں کی رحلت کا یہ منظر
چیونٹیاں
میں جب بھی کوئی خواب دیکھتا ہوں
تو صبح وہ میری دائیں آنکھ سے
کالا کیکڑا بن کر نکل جاتا ہے
میرے گھر کی دیواریں اور دیگر اشیاء
اب ان سے مانوس ہو چکے ہیں
شمسہ کو اگر کیکڑوں سے الرجی نہیں ہوتی