Showing posts with label غنی پہوال. Show all posts
Showing posts with label غنی پہوال. Show all posts

Tuesday, 20 February 2024

میں سوچ رہا تھا کہ گانٹھ کھول کر

 میں سوچ رہا تھا

کہ گانٹھ کھول کر

ساری شکایتیں پھینک دوں

جب گانٹھ کُھل گئی

میرے چاروں طرف

ایک گُنجان شہر پھیل گیا

Saturday, 17 February 2024

رد عمل میں نے جب بھی سچ کو جنا

 رد عمل


میں نے جب بھی سچ کو جنا

جُھوٹ کے سوداگر فرشتوں نے

آ کر میرے ماتھے پر

شیطان لِکھ دیا


غنی پہوال

Monday, 5 February 2024

تمہاری آنکھوں کی بصیرتوں میں میں زندہ رہوں گا

 مت بھولنا

تمہاری آنکھوں کی بصیرتوں میں

میں زندہ رہوں گا

جس طرح میری آنکھوں میں

میرا باپ سانس لیتا ہے


غنی پہوال

Saturday, 5 June 2021

برگد بالکل میری ماں کی طرح سانس لیتا ہے

برگد


ایک نظارہ مجھ میں ہمیشہ زندہ ہے

میری بے حس و حرکت ماں

چارپائی پر پڑی ہے

کچھ ہمسائیاں بین کرتی ہوئی

اُسے سفید چادر اوڑھا رہی ہیں

ماں کی رحلت کا یہ منظر

Sunday, 14 March 2021

میں جب بھی کوئی خواب دیکھتا ہوں

چیونٹیاں


میں جب بھی کوئی خواب دیکھتا ہوں

تو صبح وہ میری دائیں آنکھ سے

کالا کیکڑا بن کر نکل جاتا ہے

میرے گھر کی دیواریں اور دیگر اشیاء

اب ان سے مانوس ہو چکے ہیں

شمسہ کو اگر کیکڑوں سے الرجی نہیں ہوتی