Saturday, 5 June 2021

برگد بالکل میری ماں کی طرح سانس لیتا ہے

برگد


ایک نظارہ مجھ میں ہمیشہ زندہ ہے

میری بے حس و حرکت ماں

چارپائی پر پڑی ہے

کچھ ہمسائیاں بین کرتی ہوئی

اُسے سفید چادر اوڑھا رہی ہیں

ماں کی رحلت کا یہ منظر

میرے اندر پینٹ ہو جاتا ہے

مدتیں گزریں

میں جب بھی اس منظر سے بھاگ کر

اپنی ماں کی آغوش میں جانا چاہتا

تو ایک برگد کے تنے سے لپٹ کر رونے لگتا

اور وہ مجھے اپنی آغوش میں لے لیتا

میں رفتہ رفتہ برگد سے قریب تر ہوتا گیا

اور دھیرے دھیرے مجھ پر انکشاف ہوا

کہ برگد بالکل میری ماں کی طرح سانس لیتا ہے

اس کی دھڑکنیں ماں کے دل کی طرح ہیں

پھر مجھے اس کی پناہ میں سکون آنے لگا

جیسے میں اپنی کوئی ہوئی ماں کی ممتا دریافت کر چکا تھا

آج ساٹھ سالوں کے بعد

اسی ممتا کی چھاؤں میں بیٹھے

سوچ رہا ہوں

کہ لوگ یتیم خانوں میں

برگد کے پیڑ کیوں نہیں لگاتے


غنی پہوال

No comments:

Post a Comment