مہکتے گیسوؤں میں خم مجھے اچھا نہیں لگتا
تمہاری زندگی میں غم مجھے اچھا نہیں لگتا
بِچھڑنا ہو تو تم یکلخت مجھ سے دور ہو جانا
ادا قسطوں میں ہو ماتم، مجھے اچھا نہیں لگتا
تمہارے مسکرانے سے خزاں میں پُھول کھلتے ہیں
تُمہاری آنکھ ہو پُر نم، مجھے اچھا نہیں لگتا
تمہارے بعد تو اتنا اکیلا ہو گیا کہ اب
یہ جو اک لفظ ہے نا 'ہم' مجھے اچھا نہیں لگتا
تمہارا زخم تو جاناں، امانت ہے محبت کی
کوئی اس پہ رکھے مرہم، مجھے اچھا نہیں لگتا
میں دنیا کے سبھی رشتے تعلق توڑ دوں لیکن
وہ میرا یار ہو برہم، مجھے اچھا نہیں لگتا
سلیم اس مہ جبیں کے ناز و نخرے کم نہیں ہوتے
میں اس سے کہہ چکا ہمدم! مجھے اچھا نہیں لگتا
سلیم عباس
No comments:
Post a Comment