Saturday, 5 June 2021

مہکتے گیسوؤں میں خم مجھے اچھا نہیں لگتا

 مہکتے گیسوؤں میں خم مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہاری زندگی میں غم مجھے اچھا نہیں لگتا

بِچھڑنا ہو تو تم یکلخت مجھ سے دور ہو جانا

ادا قسطوں میں ہو ماتم، مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہارے مسکرانے سے خزاں میں پُھول کھلتے ہیں

تُمہاری آنکھ ہو پُر نم، مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہارے بعد تو اتنا اکیلا ہو گیا کہ اب

یہ جو اک لفظ ہے نا 'ہم' مجھے اچھا نہیں لگتا

تمہارا زخم تو جاناں، امانت ہے محبت کی

کوئی اس پہ رکھے مرہم، مجھے اچھا نہیں لگتا

میں دنیا کے سبھی رشتے تعلق توڑ دوں لیکن

وہ میرا یار ہو برہم، مجھے اچھا نہیں لگتا

سلیم اس مہ جبیں کے ناز و نخرے کم نہیں ہوتے

میں اس سے کہہ چکا ہمدم! مجھے اچھا نہیں لگتا


سلیم عباس

No comments:

Post a Comment