جتنا عرصہ تم سے دوستی رہ گئی ہے
دل میں میرے ایک اداسی رہ گئی ہے
تم نے تو بس باغ سے پھول کو توڑا ہے
اس کا کیا جو تتلی پیاسی رہ گئی ہے
ذہن میں اب ماضی کا کوئی نقش نہیں
پر وہ نیلی آنکھوں والی رہ گئی ہے
ورنہ اتنی جلدی عشق نہیں ہوتا
مجھ پہ وہ تعویز کراتی رہ گئی ہے
میری آنکھ کو بنجر کہنے والے سن
یہ صحرا کی پیاس بجھاتی رہ گئی ہے
تم کیا جانو ایک تمہارے جانے سے
جیون میں اب صرف اداسی رہ گئی ہے
وقت ملا تو عاطف کر ہی لیں گے ہم
وہ جو ایک محبت باقی رہ گئی ہے
عاطف شبیر
No comments:
Post a Comment