Saturday, 5 June 2021

جتنا عرصہ تم سے دوستی رہ گئی ہے

 جتنا عرصہ تم سے دوستی رہ گئی ہے

دل میں میرے ایک اداسی رہ گئی ہے

تم نے تو بس باغ سے پھول کو توڑا ہے

اس کا کیا جو تتلی پیاسی رہ گئی ہے

ذہن میں اب ماضی کا کوئی نقش نہیں

پر وہ نیلی آنکھوں والی رہ گئی ہے

ورنہ اتنی جلدی عشق نہیں ہوتا

مجھ پہ وہ تعویز کراتی رہ گئی ہے

میری آنکھ کو بنجر کہنے والے سن

یہ صحرا کی پیاس بجھاتی رہ گئی ہے

تم کیا جانو ایک تمہارے جانے سے

جیون میں اب صرف اداسی رہ گئی ہے

وقت ملا تو عاطف کر ہی لیں گے ہم

وہ جو ایک محبت باقی رہ گئی ہے


عاطف شبیر

No comments:

Post a Comment