کسی نے رکھا ہے بازار میں سجا کے مجھے
کوئی خرید لے قیمت مِری چکا کے مجھے
اسی کی یاد کے برتن بنائے جاتا ہوں
وہی جو چھوڑ گیا چاک پر گھما کے مجھے
ہے میرے لفظوں کو مجھ سے مناسبت کتنی
میں کیسا نغمہ ہوں پہچان گنگنا کے مجھے
کسی نے رکھا ہے بازار میں سجا کے مجھے
کوئی خرید لے قیمت مِری چکا کے مجھے
اسی کی یاد کے برتن بنائے جاتا ہوں
وہی جو چھوڑ گیا چاک پر گھما کے مجھے
ہے میرے لفظوں کو مجھ سے مناسبت کتنی
میں کیسا نغمہ ہوں پہچان گنگنا کے مجھے
جنوں میں ریت کو یوں ہی نہیں نچوڑا تھا
کسی کی پیاس زیادہ تھی، پانی تھوڑا تھا
پھر اس کے بعد تو آنکھوں سے نیند غائب تھی
کسی خیال نے احساس کو جھنجھوڑا تھا
تمام عمر بھٹکتے رہے تھے وحشت میں
بس ایک مرتبہ ہم نے حصار توڑا تھا
نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا
ہمیں خود کو بدل کر دیکھنا تھا
بلا کی خوب صورت ہے یہ دنیا
اسے گھر سے نکل کر دیکھنا تھا
بہت ممکن تھا رستے راس آتے
ہمیں کچھ دور چل کر دیکھنا تھا
کہیں دریا نہیں ہوتا کہیں صحرا نہیں ہوتا
ضرورت پر ہماری کوئی بھی اپنا نہیں ہوتا
کہانی ختم ہو جاتی کوئی صدمہ نہیں ہوتا
بچھڑتے وقت وہ چھُپ کر اگر رویا نہیں ہوتا
تمہاری یاد کے سائے میں یوں ہر وقت رہتا ہوں
میں تنہا رہ بھی جاؤں تو کبھی تنہا نہیں ہوتا
کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں
ہر جیت اس کو حاصل ہر مات میرے حق میں
تقسیم ہو گیا ہے دونوں میں ایک رہبر
اک ہاتھ اس کے حصہ، اک ہات میرے حق میں
مدت سے نم ہے دامن، آخر دکھائیں کس کو
اک روز ہو گئی تھی برسات میرے حق میں