Showing posts with label پون کمار. Show all posts
Showing posts with label پون کمار. Show all posts

Tuesday, 27 April 2021

کسی نے رکھا ہے بازار میں سجا کے مجھے

 کسی نے رکھا ہے بازار میں سجا کے مجھے

کوئی خرید لے قیمت مِری چکا کے مجھے

اسی کی یاد کے برتن بنائے جاتا ہوں

وہی جو چھوڑ گیا چاک پر گھما کے مجھے

ہے میرے لفظوں کو مجھ سے مناسبت کتنی

میں کیسا نغمہ ہوں پہچان گنگنا کے مجھے

Saturday, 24 April 2021

جنوں میں ریت کو یوں ہی نہیں نچوڑا تھا

 جنوں میں ریت کو یوں ہی نہیں نچوڑا تھا

کسی کی پیاس زیادہ تھی، پانی تھوڑا تھا

پھر اس کے بعد تو آنکھوں سے نیند غائب تھی

کسی خیال نے احساس کو جھنجھوڑا تھا

تمام عمر بھٹکتے رہے تھے وحشت میں

بس ایک مرتبہ ہم نے حصار توڑا تھا

نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا

 نئے موسموں میں ڈھل کر دیکھنا تھا

ہمیں خود کو بدل کر دیکھنا تھا

بلا کی خوب صورت ہے یہ دنیا

اسے گھر سے نکل کر دیکھنا تھا

بہت ممکن تھا رستے راس آتے

ہمیں کچھ دور چل کر دیکھنا تھا

Friday, 23 April 2021

کہیں دریا نہیں ہوتا کہیں صحرا نہیں ہوتا

 کہیں دریا نہیں ہوتا کہیں صحرا نہیں ہوتا

ضرورت پر ہماری کوئی بھی اپنا نہیں ہوتا

کہانی ختم ہو جاتی کوئی صدمہ نہیں ہوتا

بچھڑتے وقت وہ چھُپ کر اگر رویا نہیں ہوتا

تمہاری یاد کے سائے میں یوں ہر وقت رہتا ہوں

میں تنہا رہ بھی جاؤں تو کبھی تنہا نہیں ہوتا

Friday, 19 March 2021

کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں

 کیا زندگی نے رکھی سوغات میرے حق میں

ہر جیت اس کو حاصل ہر مات میرے حق میں

تقسیم ہو گیا ہے دونوں میں ایک رہبر

اک ہاتھ اس کے حصہ، اک ہات میرے حق میں

مدت سے نم ہے دامن، آخر دکھائیں کس کو

اک روز ہو گئی تھی برسات میرے حق میں