تیرا ہجر عذاب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
ہر وقت اضطراب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
میں سمجھتا رہا تیرے پیار کو حقیقت مگر
یہ بھی اک خواب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
میں بے لوث کرتا رہا فقط تیری ہی پُوجا
یہ گناہ یا ثواب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
چاند کو چھُونے کی ضِد میں کسی بچے کی طرح
دل اتنا بے تاب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
کل تو جی بھر کے مئے پلاتا رہا اے ساقی
آج اس کا حساب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
صفحۂ دہر میں عشق و محبت کر کے امر
اپنا خانہ خراب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا
میاں امر
No comments:
Post a Comment