Sunday, 18 October 2026

اپنا خانہ خراب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

 تیرا ہجر عذاب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

ہر وقت اضطراب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

میں سمجھتا رہا تیرے پیار کو حقیقت مگر

یہ بھی اک خواب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

میں بے لوث کرتا رہا فقط تیری ہی پُوجا

یہ گناہ یا ثواب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

چاند کو چھُونے کی ضِد میں کسی بچے کی طرح

دل اتنا بے تاب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

کل تو جی بھر کے مئے پلاتا رہا اے ساقی

آج اس کا حساب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا

صفحۂ دہر میں عشق و محبت کر کے امر

اپنا خانہ خراب ہو گا مجھے معلوم نہ تھا


میاں امر

No comments:

Post a Comment