Thursday, 8 October 2026

ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں

 ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں

سر ہی نہیں قابل دستار کہاں سے لاؤں

اپنی زمیں کا تھوڑا ٹکڑا تمہیں بھی دے دیں

مہاجرو! ایسے انصار کہاں سے لاؤں

زنگ آلود عجائب گھر میں رکھی ہو گی

عالمگیر کی وہ تلوار کہاں سے لاؤں

جس میں قتل کا چرچا، خون کا ذکر ندارد

دورِ نو میں وہ اخبار کہاں سے لاؤں

دوڑ رہی ہے دنیا ہی ساری لیکن میں

اپنے پیروں میں رفتار کہاں سے لاؤں


انعام شرر ایوبی

No comments:

Post a Comment