ماضی کے روشن کردار کہاں سے لاؤں
سر ہی نہیں قابل دستار کہاں سے لاؤں
اپنی زمیں کا تھوڑا ٹکڑا تمہیں بھی دے دیں
مہاجرو! ایسے انصار کہاں سے لاؤں
زنگ آلود عجائب گھر میں رکھی ہو گی
عالمگیر کی وہ تلوار کہاں سے لاؤں
جس میں قتل کا چرچا، خون کا ذکر ندارد
دورِ نو میں وہ اخبار کہاں سے لاؤں
دوڑ رہی ہے دنیا ہی ساری لیکن میں
اپنے پیروں میں رفتار کہاں سے لاؤں
انعام شرر ایوبی
No comments:
Post a Comment