علم بھی آزار لگتا ہے مجھے
آدمی اخبار لگتا ہے مجھے
چیختی سڑکیں، دھواں، پٹرول، بُو
شہر تو بیمار لگتا ہے مجھے
اس قدر محفوظ رہتا ہے کہ وہ
رام کا اوتار لگتا ہے مجھے
علم بھی آزار لگتا ہے مجھے
آدمی اخبار لگتا ہے مجھے
چیختی سڑکیں، دھواں، پٹرول، بُو
شہر تو بیمار لگتا ہے مجھے
اس قدر محفوظ رہتا ہے کہ وہ
رام کا اوتار لگتا ہے مجھے
لفظوں کے بُت ٹُوٹ چکے ہیں
کورا کاغذ پڑا ہوا ہے
گِدھ نے کب زندوں کو نوچا
شیر نے کب مُردوں کو چھُوا ہے
اپنی اپنی بِین سنبھالو
سُنا ہے شہر میں ناگ آیا ہے