Showing posts with label احمد سوز. Show all posts
Showing posts with label احمد سوز. Show all posts

Tuesday, 22 June 2021

علم بھی آزار لگتا ہے مجھے

 علم بھی آزار لگتا ہے مجھے

آدمی اخبار لگتا ہے مجھے

چیختی سڑکیں، دھواں، پٹرول، بُو

شہر تو بیمار لگتا ہے مجھے

اس قدر محفوظ رہتا ہے کہ وہ

رام کا اوتار لگتا ہے مجھے

Friday, 21 May 2021

لفظوں کے بت ٹوٹ چکے ہیں

 لفظوں کے بُت ٹُوٹ چکے ہیں

کورا کاغذ پڑا ہوا ہے

گِدھ نے کب زندوں کو نوچا

شیر نے کب مُردوں کو چھُوا ہے

اپنی اپنی بِین سنبھالو

سُنا ہے شہر میں ناگ آیا ہے

Friday, 23 December 2016

دولت شب کے آستانے پر

دولتِ شب کے آستانے پر
ناگ بیٹھا رہا خزانے پر
آفتیں بول کر نہیں آتیں
ہم ہمیشہ سے ہیں نشانے پر
سازشیں کر رہا ہے کیا کیا دل
اک ذرا ان کے مسکرانے پر

حوصلہ کتنی دیر ڈھوئے مجھے

حوصلہ کتنی دیر ڈھوئے مجھے
ناؤ میری ہی جب ڈبوئے مجھے
یہ بھی کتنی عجیب خواہش ہے
بعد مرنے کے کوئی روئے مجھے
پیاسا ٹکڑا اسی زمین کا ہوں
برسے بادل، ذرا بھگوئے مجھے

میں جان گیا ہوں وہ مرا غم نہ کرے گا

میں جان گیا ہوں وہ مِرا غم نہ کرے گا
اچھا ہے مِرے بعد، وہ ماتم نہ کرے گا
کیا کوئی کرے گا مِرے زخموں کا مداوا
جب میرا لہو خود مجھے مرہم نہ کرے گا
جادو اسے آتا ہے یہ معلوم ہے سب کو
جادو سے کسی شے کو وہ درہم نہ کرے گا

یہ کیسی زندگی ہے

یہ کیسی زندگی ہے
مسلسل جنگ سی ہے
بہت سے زیر و بم ہیں
زمیں بھی اٹ پٹی ہے
ہماری انگلیوں کی
یہ سب جادوگری ہے

Sunday, 13 November 2016

بانہوں میں مری آج مچلنے کے لیے آ

بانہوں میں مِری آج مچلنے کے لئے آ
اے شام! مِرے ساتھ ٹہلنے کے لئے آ
دن بھر تو تگ و دو میں گزر جاتا ہے میرا
ہر روز سرِ شام بہلنے کے لئے آ
دنیا مِرے واسطے اک خوابِ تمنا
آ، خواب حقیقت میں بدلنے کے لئے آ

وہ کامیاب ہوا تھا جسے چھپانے میں

وہ کامیاب ہوا تھا جسے چھپانے میں
وہ درد اب اسے مصروف ہے ستانے میں
شکستِ خواب اسے مضطرب کرے ہے پھر
پڑا ہوا تھا جو مدت سے سرد خانے میں
محبتوں کا وہ رشتہ پَل میں ٹوٹ گیا
تمام عمر لگی تھی جسے کمانے میں

دوست دشمن سے ہو گئے ہیں مجھے

دوست دشمن سے ہو گئے ہیں مجھے
جو نہیں میں وہ سوچتے ہیں مجھے
زندگی نے بہت ستایا ہے
زندگی سے بہت گلے ہیں مجھے
کل پرستان میں رہا شب بھر
لگ رہا تھا کہ پر لگے ہیں مجھے

Wednesday, 12 October 2016

میں ترے خوابوں میں آنے لگ جاؤں

میں ترے خوابوں میں آنے لگ جاؤں
چاہتاہوں کہ ٹھکانے لگ جاؤں
ساتھ تصویرِ ترے کھنچواؤں
تیرے پہلو میں سہانے لگ جاؤں
ڈور ہاتھوں میں تھما دوں تیرے
دل پتنگ اپنی اڑانے لگ جاؤں

مشکلوں میں ہےآج میری حیات

مشکلوں میں ہےآج میری حیات
آج وہ بھی نہیں ہے میرے سات
ساتھ اس نے بھی میرا چھوڑ دیا
کس کے ہوتے نہیں برے حالات
آج اس نے بھی دی شکست مجھے
زندگی نے بھی دی ہے مجھ کو مات

ذات اس کی ہے ذات پھولوں کی

ذات اس کی ہے ذات پھولوں کی
اور وہ کائنات پھولوں کی
رنگ بھی روپ بھی ہے خوشبو بھی
اس میں ساری صفات پھولوں کی
حسن صدقہ ہے حسن پھولوں کا
اور خوشبو زکات پھولوں کی