Tuesday, 22 June 2021

علم بھی آزار لگتا ہے مجھے

 علم بھی آزار لگتا ہے مجھے

آدمی اخبار لگتا ہے مجھے

چیختی سڑکیں، دھواں، پٹرول، بُو

شہر تو بیمار لگتا ہے مجھے

اس قدر محفوظ رہتا ہے کہ وہ

رام کا اوتار لگتا ہے مجھے

روز نظمیں کہنا، چھپوانا کہیں

ایک کاروبار لگتا ہے مجھے

شاعری اچھی بُری معلوم ہے

باقی سب بے کار لگتا ہے مجھے


احمد سوز

No comments:

Post a Comment