عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عجب ہے کیف عجب ہے خُمار آنکھوں میں
بسا ہوا ہے نبیﷺ کا دیار آنکھوں میں
جو آئی یادِ مدینہ تو آنسوؤں کی طرح
چُھپا لیا ہے اسے بے قرار آنکھوں میں
مجھے تلاش نہیں سُرمہ بصیرت کی
ہے ان کی راہگُزر کا غُبار آنکھوں میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
عجب ہے کیف عجب ہے خُمار آنکھوں میں
بسا ہوا ہے نبیﷺ کا دیار آنکھوں میں
جو آئی یادِ مدینہ تو آنسوؤں کی طرح
چُھپا لیا ہے اسے بے قرار آنکھوں میں
مجھے تلاش نہیں سُرمہ بصیرت کی
ہے ان کی راہگُزر کا غُبار آنکھوں میں
ملی نغمہ؛ اے نگارِ وطن تو سلامت رہے
اے نگارِ وطن تُو سلامت رہے
مانگ تیری ستاروں سے بھر دیں گے ہم
تُو سلامت رہے
سبز پرچم تیرا، چاند تارے تیرے
تیری بزمِ نگاری کے عنوان ہیں
تیری گلیاں، تیرے شہر، تیرے چمن
تیرے ہونٹوں کی جُنبش پہ قُربان ہیں
جب تجھے روشنی کی ضرورت پڑی
اپنی محفل کے شمس و قمر دیں گے ہم
تُو سلامت رہے
ہو سکی تیرے رُخ پہ نہ قُرباں اگر
ائر کس کام آئے گی یہ زندگی
اپنے خوں سے بڑھاتے رہیں گے سدا
تیرے گُل رنگ چہرے کی تابندگی
جب بھی تیری نظر کا اشارہ مِلا
تحفۂ نفسِ جاں پیش کر دیں گے ہم
تو سلامت رہے
اے نگارِ وطن تُو سلامت رہے
شاعر لکھنوی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
کمال کچھ نہ رہا صاحبِ کمال کے بعد
ہر آئینہ ہوا دُھندلا تِرےؐ جمال کے بعد
تِریؐ عطا کی ہے ہم عاصیوں پہ یوں تقسیم
کچھ انفعال سے پہلے، کچھ انفعال کے بعد
دل انؐ کا گھر ہے وہ اس گھر میں آتے رہتے ہیں
کبھی خیال سے پہلے، کبھی خیال کے بعد
جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا
سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا
خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے
تِرا منہ تک رہا ہے آئینہ کیا
اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں
کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا
ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہو گا
لٹ گئی دولت احساس تو پھر کیا ہو گا
کون تا صبح جلائے گا تمنا کے چراغ
شام سے ٹوٹ گئی آس تو پھر کیا ہو گا
جن کی دوری میں وہ لذت ہے کہ بیتاب ہے دل
آ گئے وہ جو کہیں پاس تو پھر کیا ہو گا
ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ
چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ
سفر کے شوق میں اتنے عذاب جھیلے ہیں
کہ اب تو قصدِ سفر ہی سے ڈر گئے ہیں لوگ
دھواں دھواں نظر آتی ہیں شہر کی گلیاں
سنا ہے آج سرِ شام گھر گئے ہیں لوگ