Showing posts with label شاعر لکھنوی. Show all posts
Showing posts with label شاعر لکھنوی. Show all posts

Monday, 15 January 2024

عجب ہے کیف عجب ہے خمار آنکھوں میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


عجب ہے کیف عجب ہے خُمار آنکھوں میں

بسا ہوا ہے نبیﷺ کا دیار آنکھوں میں

جو آئی یادِ مدینہ تو آنسوؤں کی طرح

چُھپا لیا ہے اسے بے قرار آنکھوں میں

مجھے تلاش نہیں سُرمہ بصیرت کی

ہے ان کی راہگُزر کا غُبار آنکھوں میں

Sunday, 13 August 2023

اے نگار وطن تو سلامت رہے

 ملی نغمہ؛ اے نگارِ وطن تو سلامت رہے


اے نگارِ وطن تُو سلامت رہے

مانگ تیری ستاروں سے بھر دیں گے ہم 

تُو سلامت رہے


سبز پرچم تیرا، چاند تارے تیرے

تیری بزمِ نگاری کے عنوان ہیں

تیری گلیاں، تیرے شہر، تیرے چمن

تیرے ہونٹوں کی جُنبش پہ قُربان ہیں

جب تجھے روشنی کی ضرورت پڑی

اپنی محفل کے شمس و قمر دیں گے ہم

تُو سلامت رہے


ہو سکی تیرے رُخ پہ نہ قُرباں اگر

ائر کس کام آئے گی یہ زندگی

اپنے خوں سے بڑھاتے رہیں گے سدا

تیرے گُل رنگ چہرے کی تابندگی

جب بھی تیری نظر کا اشارہ مِلا

تحفۂ نفسِ جاں پیش کر دیں گے ہم

تو سلامت رہے

اے نگارِ وطن تُو سلامت رہے


شاعر لکھنوی

Friday, 21 April 2023

کمال کچھ نہ رہا صاحب کمال کے بعد

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


کمال کچھ نہ رہا صاحبِ کمال کے بعد

ہر آئینہ ہوا دُھندلا تِرےؐ جمال کے بعد

تِریؐ عطا کی ہے ہم عاصیوں پہ یوں تقسیم

کچھ انفعال سے پہلے، کچھ انفعال کے بعد

دل انؐ کا گھر ہے وہ اس گھر میں آتے رہتے ہیں

کبھی خیال سے پہلے، کبھی خیال کے بعد

Friday, 8 April 2022

جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

 جدا ہو کر وہ ہم سے ہے جدا کیا

سماعت کا صدا سے فاصلہ کیا

خود اپنے عالم حیرت کو دیکھے

تِرا منہ تک رہا ہے آئینہ کیا

اندھیرا ہو گیا ہے شہر بھر میں

کوئی دل جلتے جلتے بجھ گیا کیا

Wednesday, 2 December 2020

ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہو گا

 ان کا غم بھی نہ رہا پاس تو پھر کیا ہو گا

لٹ گئی دولت احساس تو پھر کیا ہو گا

کون تا صبح جلائے گا تمنا کے چراغ

شام سے ٹوٹ گئی آس تو پھر کیا ہو گا

جن کی دوری میں وہ لذت ہے کہ بیتاب ہے دل

آ گئے وہ جو کہیں پاس تو پھر کیا ہو گا

Friday, 16 October 2020

ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ

 ہوا کو اور بھی کچھ تیز کر گئے ہیں لوگ

چراغ لے کے نہ جانے کدھر گئے ہیں لوگ

سفر کے شوق میں اتنے عذاب جھیلے ہیں

کہ اب تو قصدِ سفر ہی سے ڈر گئے ہیں لوگ

دھواں دھواں نظر آتی ہیں شہر کی گلیاں

سنا ہے آج سرِ شام گھر گئے ہیں لوگ

Thursday, 8 December 2016

عقل جب تک جنوں شناس رہی

عقل جب تک جنوں شناس رہی
روشنی دل کے آس پاس رہی
پاس آیا نہ کوئی پروانہ
شمع کی لو بہت اداس رہی
بجھ گئے سینکڑوں چراغ، مگر
تجھ سے ملنے کی دل کو آس رہی

ساعت ہجر ہے بھی ہے کتنی بھلی

ساعتِ ہجر ہے بھی ہے کتنی بھلی
ایک لمحے میں ساری عمر ڈھلی
حاصلِ اعتبار تو دیکھو
اک تبسم پہ مطمئن ہے کلی
انتظارِ سحر میں تھے دونوں
شمع جب بجھ گئی تو رات جلی

دل میں ہیں زخم تمنا کتنے

دل میں ہیں زخمِ تمنا کتنے
پھول میں رنگ ہیں یکجا کتنے
ایک موہوم سی شہرت کے لیے
لوگ ہو جاتے ہیں رسوا کتنے
اک نیا روز بدلتی ہے لباس
پیراہن رکھتی ہے دنیا کتنے

دل میں احساس تمنا گم ہے

دل میں احساسِ تمنا گم ہے
ریت ہی ریت ہے دریا گم ہے
دل ہے اس ایک مسافر کی طرح
جو بھرے شہر میں تنہا گم ہے
پہلے صحرا میں تھے گم دیوانے
ہم جو آئے ہیں تو صحرا گم ہے

Monday, 16 November 2015

دار تک آئے حریم لب و رخسار سے لوگ

دار تک آئے حریم لب و رخسار سے لوگ
باخبر کتنے ہیں حالات کی رفتار سے لوگ
دوست بن جاتے ہیں پیرایۂ اظہار سے لوگ
زخم دینے کو بھی آتے ہیں بڑے پیار سے لوگ
پرسشِ غم سے نئے زخم کھلا دیتے ہیں
یہ سبک چہرہ، یہ معصوم، یہ غمخوار سے لوگ

کہیں تو عشق کی آوارگی کو رنگ ملے

کہیں تو عشق کی آوارگی کو رنگ ملے
دیارِ گل نہیں ملتا، دیارِ سنگ ملے
ہمارے خون میں نہا کر بہار جب گزری
دھواں دھواں تھے جو چہرے وہ رنگ رنگ ملے
تِری گلی میں نہ جائیں تو پھر کہاں جائیں
وہ لوگ، وسعتِ صحرا بھی جن کو تنگ ملے

Friday, 25 September 2015

جو غم حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے

جو غمِ حبیب سے دور تھے وہ خود اپنی آگ میں جل گئے
جو غمِ حبیب کو پا گئے وہ غموں سے ہنس کے نکل گئے
جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے
وہ نظر نظر سے گلے ملی تو بجھے چراغ بھی جل گئے
یہ شکستِ دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں
میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے

عشق بول اٹھتا ہے اظہار وفا سے پہلے

عشق بول اٹھتا ہے اظہارِ وفا سے پہلے
دل دھڑکتا ہے نگاہوں کی صدا سے پہلے
یہ پشیماں سی نظر، یہ عرق آلود جبیں
تم نہ تھے اتنے حسِیں ترکِ وفا سے پہلے
سوچتے ہیں اسے کس نام سے منسوب کریں
رنگ آتا ہے جو اس رخ پہ حیا سے پہلے

سزا یہی ہے کہ ان تک نہ کوئی جام آئے

سزا یہی ہے کہ ان تک نہ کوئی جام آئے
جو مے کدے میں گئے اور تشنہ کام آئے
خیالِ نکہتِ گیسو میں کچھ خبر نہ ہوئی
سنا ہے بادِ صبا کے بہت سلام آئے
فسانہ جب کبھی پامالئ چمن کا چھِڑا
زبانِ گُل پہ خود اہلِ چمن کے نام آئے

سرد ہے عشق کا بازار اب کے

سرد ہے عشق کا بازار اب کے
ہیں تہی دست خریدار اب کے
کٹ کے شاخوں سے گرے برگ و ثمر
فصلِ گُل ہو گئی تلوار اب کے
ہر گھڑی ایک ہی صورت کا جنوں
ہم نہیں دل کے طرفدار اب کے