Thursday, 8 December 2016

عقل جب تک جنوں شناس رہی

عقل جب تک جنوں شناس رہی
روشنی دل کے آس پاس رہی
پاس آیا نہ کوئی پروانہ
شمع کی لو بہت اداس رہی
بجھ گئے سینکڑوں چراغ، مگر
تجھ سے ملنے کی دل کو آس رہی
چھپ کے آئی ہزار پردوں میں
آرزو پھر بھی بے لباس رہی
ذکر جب تک رہا تِرے غم کا
گردشِ دھر بد حواس رہی
ایک دریا تھی زندگی پھر بھی
عمر بھر کس غضب کی پیاس رہی
ایک لمحے کو وہ آئے تھے قریب
دیر تک زندگی اداس رہی
گم ہوئی دل میں وہ نظر شاعرؔ
روشنی روشنی کے پاس رہی

شاعر لکھنوی

No comments:

Post a Comment