عقل جب تک جنوں شناس رہی
روشنی دل کے آس پاس رہی
پاس آیا نہ کوئی پروانہ
شمع کی لو بہت اداس رہی
بجھ گئے سینکڑوں چراغ، مگر
چھپ کے آئی ہزار پردوں میں
آرزو پھر بھی بے لباس رہی
ذکر جب تک رہا تِرے غم کا
گردشِ دھر بد حواس رہی
ایک دریا تھی زندگی پھر بھی
عمر بھر کس غضب کی پیاس رہی
ایک لمحے کو وہ آئے تھے قریب
دیر تک زندگی اداس رہی
گم ہوئی دل میں وہ نظر شاعرؔ
روشنی روشنی کے پاس رہی
شاعر لکھنوی
No comments:
Post a Comment